پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف کا متوقع دورہ روس، توانائی، دفاع اور سفارتکاری میں پیش رفت متوقع

صدر پیوٹن نے وزیراعظم کو عالمی معاملات میں "دانشمند آواز" اور "اہم رہنما" قرار دیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان کے سفیر برائے روس فیصل نیاز ترمذی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا جون 2026 میں روس کا دورہ متوقع ہے، جس کے دوران وہ اعلیٰ روسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کریں گے۔

ایک روسی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سفیر ترمذی نے کہا کہ دونوں ممالک اس دورے کی تاریخوں کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ یہ اہم سفارتی دورہ جون میں ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے اس دورے کو "تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔

دورہ کیوں مؤخر ہوا؟

سفیر کے مطابق وزیراعظم کا دورہ پہلے طے شدہ تھا تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث اسے مؤخر کرنا پڑا، حالانکہ بیشتر معاہدے اور تیاری مکمل ہو چکی تھی۔

روسی قیادت سے قریبی روابط

سفیر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں چین اور اشک آباد میں ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن نے وزیراعظم کو عالمی معاملات میں "دانشمند آواز” اور "اہم رہنما” قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے دورے کے بعد روسی صدر کے دورہ پاکستان کا بھی امکان ہے، جو دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔

ایران-امریکہ تنازع میں کردار

سفیر ترمذی نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے فعال سفارتی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور روس سمیت تمام اہم فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا۔

انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ دو ہفتوں میں روسی نائب وزرائے خارجہ کے ساتھ تین اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ براہ راست بات چیت نے بھی کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

توانائی کے شعبے میں تعاون

سفیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان روس سے تیل کی طویل مدتی سپلائی کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا:

"ہم اس وقت خلیجی ممالک سے تیل درآمد کر رہے ہیں، لیکن روس کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں، کیونکہ 2023 میں ہمیں روس سے ایک کھیپ موصول ہوئی تھی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم ہو گا، تاہم مغربی پابندیوں کے باعث کچھ روسی کمپنیوں کو مسائل کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دفاعی اور سکیورٹی تعاون

ملٹری تعلقات کے حوالے سے سفیر نے بتایا کہ پاکستان اور روس ستمبر 2026 میں پاکستان میں مشترکہ انسداد دہشت گردی مشقیں "درزبہ” منعقد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور اس کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کے تحت دہشت گردی، انتہا پسندی اور شدت پسند گروہوں جیسے ISIS-K (داعش خراسان), تحریک طالبان پاکستان, تحریک طالبان افغانستان کے خلاف بھی قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

برکس رکنیت اور عالمی تعاون

سفیر ترمذی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کو برکس میں شامل کیا جائے گا اور روس اس سلسلے میں پاکستان کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین، برازیل اور جنوبی افریقہ پاکستان کی رکنیت کے حامی ہیں، جبکہ بھارت نے مخالفت کی ہے۔

عوامی روابط اور سیاحت

سفیر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط میں بھی اضافہ ہو رہا ہے روس میں تقریباً 1300 پاکستانی طلباء زیر تعلیم ہیں, پاکستانی تعلیمی اداروں میں روسی زبان پڑھائی جا رہی ہے, اردو ادب روسی زبان میں ترجمہ ہو رہا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 3000 روسی شہری پاکستانیوں سے شادی کے بعد پاکستان میں مقیم ہیں، جبکہ کئی پاکستانی بھی روس میں آباد ہیں۔

سیاحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ روسی سیاح پہلے ہی پاکستان میں ہائیکنگ اور کوہ پیمائی کے لیے آ رہے ہیں، اور حکومت ساحلی علاقوں، تاریخی مقامات اور حتیٰ کہ گرمیوں میں اسکیئنگ کو فروغ دے کر مزید سیاحوں کو متوجہ کرنا چاہتی ہے۔

نتیجہ

ماہرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا متوقع دورہ روس دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے، خاص طور پر توانائی، دفاع اور علاقائی سفارتکاری کے شعبوں میں۔ اگر یہ دورہ کامیاب رہا تو پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button