آٹھ اسلامی و عرب ممالک کا اسرائیلی وزیر بن گویر کے خلاف سخت مشترکہ مؤقف
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم، قیدیوں کی تذلیل اور اشتعال انگیز اقدامات پر شدید ردِعمل
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، جمہوریہ ترکی، جمہوریہ انڈونیشیا، ہاشمی مملکت اردن، مملکت قطر، مملکت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزیر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم، قیدیوں کی تذلیل اور اشتعال انگیز اقدامات پر شدید ردِعمل کے متنازع اور اشتعال انگیز اقدامات کے خلاف ایک سخت اور غیر معمولی مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو “خوفناک، توہین آمیز اور ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک انسانی وقار، بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وزرائے خارجہ نے خاص طور پر بن گویر کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی عوامی سطح پر تذلیل اور ان کے ساتھ غیر انسانی رویے کی شدید مذمت کی۔
بیان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف عالمی انسانی اقدار کے منافی ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور جنگی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزراء نے زور دیا کہ اسرائیل، بطور قابض قوت، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا پابند ہے اور اسے فلسطینی قیدیوں سمیت تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایتمار بن گویر اور اسرائیلی افواج کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی، تشدد اور انتہا پسندانہ اقدامات پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ وزراء نے ان کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات نفرت، انتہا پسندی اور کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔
آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی وزیر کے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ اشتعال انگیز پالیسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔
بیان میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ فلسطینی قیدیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وزراء نے واضح کیا کہ ایتمار بن گویر کے اقدامات کے خلاف مؤثر اور ٹھوس کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی حکام ایسے تمام اقدامات فوری طور پر بند کریں جو فلسطینی عوام کے خلاف نفرت، اشتعال انگیزی اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تمام قیدیوں اور زیر حراست افراد کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق عزت، احترام اور انسانی سلوک روا رکھا جانا چاہیے۔ وزراء نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے مکمل تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی خطے میں مزید بدامنی اور کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسلامی اور عرب دنیا کے اہم ممالک کی جانب سے اس نوعیت کا مشترکہ سخت مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فلسطینی مسئلہ ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتی سطح پر توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر بین الاقوامی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔


