مسجدِ نمرہ میں خطبۂ حج امامِ مسجد نبویؐ شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے تقویٰ، توحید اور اتحادِ امت پر زور دیا
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اپنے عہد کی پاسداری کرو۔”

By Voice of Germany Urdu News Team
میدانِ عرفات میں واقع مسجدِ نمرہ میں حج 1447 ہجری کا روح پرور خطبۂ حج دیتے ہوئے شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، سچائی، صبر، عبادت اور شعائرِ اسلام کے احترام کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور تقویٰ اختیار کرنا ہی اہلِ ایمان کی حقیقی شان ہے۔
لاکھوں حجاج کرام اور دنیا بھر میں براہِ راست نشریات کے ذریعے خطبہ سننے والے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اپنے عہد کی پاسداری کرو۔”
“قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہوگا”خطبۂ حج میں توحید اور آخرت کی کامیابی پر خصوصی زور
شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے اپنے خطبے میں آخرت، حساب اور توحید کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کا دن نہایت ہولناک ہوگا اور حقیقی کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
“آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے، جبکہ شرک اور کفر اختیار کرنے والے ایسے معبودوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع یا نقصان کے مالک نہیں۔”
انہوں نے حجاج کرام کو نصیحت کی کہ وہ اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، سچائی اور نیکی کے راستے پر استوار کریں کیونکہ دنیا عارضی جبکہ آخرت دائمی حقیقت ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی سنت اور حج کا عالمی پیغام“اللہ نے ابراہیمؑ کو حج کی منادی کا حکم دیا”
خطبۂ حج میں حضرت ابراہیمؑ کی قربانیوں اور حج کے تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے شیخ الحذیفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو حج کے لیے پکاریں اور اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو قیامت تک کے انسانوں تک پہنچا دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے مختلف خطوں، زبانوں، نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمان اسی الٰہی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے میدانِ عرفات میں جمع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حجاج کرام دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے یہاں حاضر ہوئے ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ دورانِ حج جھگڑوں، گناہوں، بدکلامی اور ہر قسم کی برائی سے اجتناب کریں۔
“شعائرِ اللہ کا احترام تقویٰ کی نشانی ہے”سچائی، صبر اور حسنِ اخلاق کی تلقین
امامِ مسجد نبویؐ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اس کے لیے اللہ نے دوہری جنت کی بشارت رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ سچ بولیں اور غلط بیانی، بدعت، غیبت اور دیگر اخلاقی برائیوں سے خود کو دور رکھیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:“جو شعائرِ اللہ کا احترام کرتا ہے، یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔”
شیخ الحذیفی نے حجاج کرام کو تلقین کی کہ وہ حج کے تمام مناسک کو سنتِ نبویؐ کے مطابق بہترین انداز میں ادا کریں اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت، رحمت اور قبولیت کی دعائیں مانگتے رہیں۔
لبیک، دعائیں اور اشکوں سے رقت آمیز فضا
میدانِ عرفات میں اس وقت روحانی مناظر اپنے عروج پر دکھائی دیے جب لاکھوں عازمینِ حج ہاتھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں مصروف رہے۔
دنیا بھر سے آئے ہوئے مختلف رنگوں، زبانوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے سفید احراموں میں ملبوس ہو کر امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اخوت کی خوبصورت تصویر پیش کی۔
شیخ الحذیفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ منظر اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے ان حجاج پر فخر فرماتا ہے جو عرفات میں جمع ہو کر عبادات اور دعاؤں میں مشغول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
“اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اس لیے نماز قائم کرو، ذکرِ الٰہی میں مصروف رہو اور مغفرت کی دعا کرتے رہو۔”
عرفات سے مزدلفہ اور پھر منیٰ روانگی
خطبۂ حج میں شیخ الحذیفی نے حجاج کرام کو مناسکِ حج کے آئندہ مراحل کی بھی یاد دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ غروبِ آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی۔
بعد ازاں حجاج کرام منیٰ واپس جا کر رمی جمرات ادا کریں گے اور ایامِ تشریق کے دوران 11 اور 12 ذوالحجہ کی راتیں منیٰ میں قیام کریں گے۔
انہوں نے حجاج کرام کو تلقین کی کہ وہ منیٰ میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں اور اپنے حج کو اخلاص اور سنتِ نبویؐ کے مطابق مکمل کریں۔
16 لاکھ سے زائد افراد وقوفِ عرفہ میں شریک
اس سے قبل دنیا بھر سے سعودی عرب پہنچنے والے لاکھوں عازمینِ حج منیٰ میں شب بسری کے بعد میدانِ عرفات پہنچے تھے، جہاں وقوفِ عرفہ ادا کیا گیا جو حج کا سب سے اہم اور مرکزی رکن ہے۔
طلوعِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں تقریباً 16 لاکھ سے زائد حجاج کی موجودگی دیکھی گئی۔
عازمین کی زبانوں پر لبیک، تسبیح اور تہلیل جاری رہی جبکہ لاکھوں ہاتھ دعاؤں کے لیے بلند اور بے شمار آنکھیں اشکبار دکھائی دیں۔
روح پرور مناظر نے میدانِ عرفات کو ایمان، خشوع و خضوع اور بندگی کی ایسی کیفیت میں ڈھال دیا جس نے ہر دل کو متاثر کیا۔
سنتِ نبویؐ کے مطابق ظہر و عصر کی ادائیگی
خطبۂ حج کے اختتام کے بعد حجاج کرام نے سنتِ نبویؐ کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کیں۔
بعد ازاں لاکھوں حجاج نے غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں قیام جاری رکھا اور دعاؤں، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآنِ پاک اور استغفار میں مشغول رہے۔
حج کے اس عظیم اجتماع نے ایک بار پھر امتِ مسلمہ کے اتحاد، مساوات اور اللہ تعالیٰ کے حضور مکمل بندگی کا عظیم منظر دنیا کے سامنے پیش کیا۔



