
وینزویلا میں 39 سیکنڈ میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور بڑے زلزلے،ایک لاکھ تک اموات کا خدشہ
وینزویلا میں آنے والے ان شدید زلزلوں کے چند گھنٹوں بعد جاپان کے شمالی علاقے کے قریب 6.9 شدت کا ایک اور طاقتور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا

By Voice of Germany urdu News Tean
جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں 39 سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ دارالحکومت کراکس (Caracas) سمیت کئی علاقوں میں عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں، جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے ایک لاکھ تک اموات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
جنوبی امریکی ملک وینزویلا سے اس وقت ایک انتہائی خوفناک اور دل دہلا دینے والی قدرتی آفت کی خبر سامنے آئی ہے۔ بدھ کی شام وینزویلا کی زمین اس شدت سے لرزی کہ گزشتہ 126 برسوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو تباہ کن زلزلوں نے دارالحکومت کراکس سمیت کئی ریاستوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس تباہی میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ ادارے نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 1 لاکھ تک ہو سکتی ہے، تاہم حتمی اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔
39 سیکنڈ کا مہلک وقفہ، عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح گر گئیں
پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا، جس کے بعد صرف 39 سیکنڈ میں 7.5 شدت کا دوسرا اور زیادہ طاقتور جھٹکا آیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے اسے ’ڈبلٹ زلزلہ‘ قرار دیا ہے، یعنی ایک ہی علاقے میں بہت کم وقت کے اندر دو بڑے زلزلے رونما ہونا۔کراکس کے مختلف علاقوں میں کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں جبکہ شہری خوف زدہ ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ہلاکتوں کے حوالے سے USGS کی تشویشناک پیش گوئی
USGS نے ’ریڈ الرٹ‘ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے باعث بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ادارے کے زلزلوں کے ریکارڈ کے مطابق 29 اکتوبر 1900 کو وینزویلا کے ساحل کے قریب 7.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جسے سان نارسیسو زلزلہ کہا جاتا ہے۔وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی حکومت کی ترجیح ’جانیں بچانا‘ ہے اور حکام منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

روڈریگیز کا کہنا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں امریکہ، ڈومینیکن ریپبلک، میکسیکو اور ایل سلواڈور سمیت دیگر ممالک سے امدادی کارکن پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔ وینزویلا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زلزلے نسبتاً زیادہ آتے ہیں، کیونکہ یہاں دو ٹیکٹونک پلیٹس، کیریبین پلیٹ اور جنوبی امریکی پلیٹ آپس میں ملتی ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق آج آنے والے دو زلزلوں میں سے دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ ان پلیٹس کی سرحد کے قریب ’سطحی سٹرائیک سلِپ فالٹنگ‘ کے نتیجے میں آیا۔
زلزلے کے باعث تباہی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر عالمی تعاون درکار،

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ہنگامی امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا، ’’ہم وینزویلا کے عوام کی مدد کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔‘‘وینزویلا میں بدھ کے روز آنے والے طاقتور زلزلے، جسے 1900ء کے بعد سے ملک میں اب تک کا شدید ترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے، کے نتیجے میں کم از کم 164 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دارالحکومت کراکس کے قریب متعدد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہے جبکہ بہت سے افراد کے ابھی تک ملبے تلے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹام فلیچر نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات 25 جون کی صبح قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز سے بات کی اور فوری طور پر متاثرہ علاقوں کی ضروریات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

فلیچر کے مطابق ایک خصوصی ہنگامی ردعمل ٹیم بھی وینزویلا بھیجی جا رہی ہے تاکہ اس ملک میں موجود امدادی عملے کی معاونت کی جا سکے۔انہوں نے مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے امداد اور تعاون کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں حکومت کی قیادت میں جاری امدادی کارروائیوں اور متاثرہ برادریوں کی مدد کے لیے ’’بڑے پیمانے پر اجتماعی کوششیں‘‘ درکار ہوں گی۔اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ نے خبردار کیا کہ زلزلے سے پہلے بھی وینزویلا میں تقریباً 80 لاکھ افراد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے محتاج تھے، اور یہ قدرتی آفت پہلے سے موجود انسانی مشکلات اور مسائل کو شدید تر بنا سکتی ہے۔
جاپان میں بھی طاقتور زلزلہ
وینزویلا میں آنے والے ان شدید زلزلوں کے چند گھنٹوں بعد جاپان کے شمالی علاقے کے قریب 6.9 شدت کا ایک اور طاقتور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم ماہرین ارضیات کے مطابق دونوں واقعات کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا ہے اور اس بارے میں مزید تحقیق جاری ہے۔ابتدائی طور پر کیریبین خطے کے لیے سونامی الرٹ جاری کیا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے واپس لے لیا گیا۔ اس کے باوجود وینزویلا میں تباہی کے مناظر نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
نوٹ: اس خبر سے متعلق صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، لہٰذا ہلاکتوں اور نقصانات کے حتمی اعداد و شمار بعد میں مختلف ہو سکتے ہیں۔



