بین الاقوامیاہم خبریں

رام مندر سے کروڑوں کے عطیات کی چوری، آٹھ ملازمین گرفتار

"اتنی مقدس جگہ کا اس طرح خبروں میں آنا شرمناک ہے

ایجنسیاں

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں واقع رام مندر سے عطیات اور قیمتی اشیا کی چوری کے الزام میں پولیس نے آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

 گرفتار شدگان میں وہ ملازمین شامل ہیں جو عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے عطیات اور سونا چاندی جیسی قیمتی اشیا کی گنتی اور حفاظت کے ذمہ دار تھے۔

یاد رہے کہ یہ وہی مندر ہے، جو 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد تعمیر کیا گیا۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے 1990 کی دہائی میں اس مقام کے لیے بھرپور تحریک چلائی تھی، جو بالآخر اسے سیاسی میدان میں کانگریس پارٹی کو پیچھے چھوڑنے میں معاون ثابت ہوئی۔

رام مندر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست سیاست کا محور سمجھا جاتا ہے اور 2024ء میں اس کے افتتاح کو انہوں نے ایک "تاریخی لمحہ” قرار دیا تھا۔ مندر کی تعمیر پر تقریباً 240 ملین ڈالر خرچ ہوئے جو مکمل طور پر عوامی عطیات سے جمع کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق عطیات کے حساب کتاب میں بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہونے پر جمعرات کو مقدمہ درج کیا گیا اور اسی روز گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ گرفتار افراد پر امانت میں خیانت، چوری، مجرمانہ ملی بھگت اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بھارت، ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کمپلیکس کا ایک عمومی منظر۔
بھارت، ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کمپلیکس کا ایک عمومی منظر۔تصویر: ANI

حکومت نے مبینہ غبن کی اصل رقم ظاہر نہیں کی، تاہم اپوزیشن اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رقم دو کروڑ ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے اور واضح کیا ہے کہ "کوئی بھی مجرم کارروائی سے نہیں بچے گا۔”

ایک مقامی عقیدت مند ویتی سکسینا نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اتنی مقدس جگہ کا اس طرح خبروں میں آنا شرمناک ہے، اب مجھے شک ہے کہ میری عطیہ کی گئی اشیا واقعی مندر تک پہنچی بھی ہیں یا نہیں۔”

اس واقعے نے لاکھوں ہندو عقیدت مندوں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور بھارت سمیت عالمی سطح پر ہندو برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button