پاکستاناہم خبریں

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے، دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون اور علاقائی صورتحال پر اہم ملاقاتیں متوقع

"پاکستان آمد پر اپنے بھائی اسکندر مومنی کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں۔"محسن نقوی

سید عاطف ندیم-پاکستان وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اعلیٰ سطحی سرکاری وفد کے ہمراہ پاکستان کے اہم سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نور خان ایئربیس/اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دورے کو پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات، سرحدی تعاون، تجارت، توانائی، سیکیورٹی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

استقبالی تقریب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایرانی وزیر داخلہ کو گلدستہ پیش کیا، جبکہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دونوں وزرائے داخلہ نے مصافحہ اور خیرسگالی کے تبادلے کے بعد مختصر گفتگو بھی کی۔

محسن نقوی کا برادرانہ خیرمقدم

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیر داخلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ:

"پاکستان آمد پر اپنے بھائی اسکندر مومنی کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں۔”

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی رشتے انتہائی مضبوط ہیں اور دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:

"امید ہے کہ ایرانی وزیر داخلہ اچھی خبر لے کر آئے ہیں، ان کے دورہ پاکستان سے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی اور علاقائی صورتحال میں بھی مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔”

ایرانی وزیر داخلہ کا گرمجوش اظہارِ خیال

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے بھی پاکستان پہنچنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے پاکستانی ہم منصب سے دوبارہ ملاقات کرکے بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا:

"پاکستان اور ایران کے تعلقات فقید المثال ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔”

اسکندر مومنی نے پاکستانی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے عوام کی محبت اور خلوص کے معترف رہے ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔

اعلیٰ سطحی وفد بھی ہمراہ

ایرانی وزیر داخلہ کے ہمراہ ایک اہم اور بااختیار وفد بھی پاکستان پہنچا ہے، جس میں مختلف شعبوں کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

وفد میں شامل شخصیات میں:

  • گورنر جنرل سیستان و بلوچستان
  • ایران کے نائب وزیر داخلہ
  • نائب وزیر برائے اربن ڈویلپمنٹ و ٹرانسپورٹ
  • نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ
  • وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے
  • مختلف وزارتوں اور اداروں کے سینئر حکام

شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق وفد کی ساخت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس دورے میں صرف سیکیورٹی ہی نہیں بلکہ تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، سرحدی ترقی، زرعی تعاون اور اقتصادی روابط بھی اہم ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔

اہم شخصیات سے ملاقاتیں

سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران:

  • وزیراعظم شہباز شریف
  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔

ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی، غیر قانونی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل و حرکت، اقتصادی تعاون، توانائی کے منصوبوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

پاک ایران تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے درمیان ہونے والی ابتدائی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجود برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیح ہے۔

دونوں وزراء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام، دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون، منظم جرائم کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور قانونی تجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

علاقائی صورتحال بھی ایجنڈے میں شامل

ذرائع کے مطابق پاک ایران وزرائے داخلہ کی ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تفصیلی مشاورت ہوگی۔

دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام، اقتصادی روابط اور سفارتی تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، جبکہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل پر بھی غور کیے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس حوالے سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایرانی وزیر داخلہ کے دورے کے دوران علاقائی صورتحال کے حوالے سے بھی مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

سرحدی تعاون اہم موضوع

پاکستان اور ایران تقریباً 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد رکھتے ہیں، جہاں سرحدی سلامتی، دہشت گردی کی روک تھام، اسمگلنگ کے خاتمے اور قانونی تجارت کے فروغ کے لیے دونوں ممالک مسلسل تعاون کر رہے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے میں سرحدی منڈیوں، بارڈر مینجمنٹ، مشترکہ گشت، اطلاعات کے تبادلے اور سرحدی ترقیاتی منصوبوں پر بھی اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔

اقتصادی اور توانائی تعاون پر بھی توجہ

ایرانی وفد میں نیشنل ایرانی آئل کمپنی اور ٹرانسپورٹ کے اعلیٰ حکام کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک توانائی، تیل، گیس، ٹرانسپورٹ اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون میں مزید اضافہ دونوں ممالک کے لیے باہمی مفاد کا حامل ہو سکتا ہے، خصوصاً سرحدی تجارت، توانائی کے شعبے اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں میں۔

دورے سے مثبت نتائج کی توقع

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں مختلف سیکیورٹی اور سفارتی چیلنجز موجود ہیں۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران متعدد اہم امور پر پیش رفت اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ فیصلوں کا بھی امکان ہے، جن کا مقصد پاکستان اور ایران کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button