
سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ ریاض کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کے قیام سے مشروط، ٹرمپ
’’سعودی عرب کا بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جانا مڈل ایسٹ میں قیام امن کے عمل میں آگے بڑھنے کے لیے ایک تاریخی چھلانگ ثابت ہو گا۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے مابین جوہری توانائی کے پرامن شہری مقاصد کے لیے استعمال سے متعلق معاہدے کے تحت خلیج کی اس بادشاہت کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔
امریکہ اور سعودی عرب نے آپس میں جوہری توانائی کے سویلین استعمال سے متعلق ایک تاریخی معاہدے کا اعلان بدھ 22 جولائی کی شام کو کیا تھا۔ اس دوطرفہ معاہدے کے تحت امریکہ سعودی عرب کو اس کا نیوکلیئر پروگرام شروع کرنے میں مدد کرے گا۔
اس ڈیل کے تحت واشنگٹن اور ریاض کے مابین اشتراک عمل جوہری توانائی کے صرف پرامن مقاصد کے لیے ہو گا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول یہ معاہدہ سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں دیتا اور اس کی وجہ سے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے کی بھی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔

لیکن جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے یا این پی ٹی سے متعلقہ امور کے ماہرین کو تشویش ہے کہ اس سعودی امریکی معاہدے میں ایسی کوئی حفاظتی شرائط شامل نہیں ہیں، جو ریاض کو یورینیم کی ایسی افزودگی سے روک سکیں، جس کے نتیجے میں ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکنے کی سطح والا یورینیم تیار کیا جا سکے۔
سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی قیام کی شرط
سعودی عرب کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام کا معاہدہ طے پا جانے کے ایک روز بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات 23 جولائی کے دن سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ سویلین نیوکلیئر ڈیل سعودی مملکت سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرے۔

صدر ٹرمپ کی کوششوں سے ماضی میں اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے درمیان معمول کے تعلقات کے قیام کے جو معاہدے طے پائے تھے، وہ ابراہیمی معاہدے کہلاتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل یہ کوشش رہی ہے کہ ان معاہدوں میں ایسے دیگر ممالک، خاص کر عرب ریاستوں کو بھی شامل ہو جانا چاہیے، جنہوں نے ابھی تک اسرائیلی ریاست کو نہ تو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی باقاعدہ روابط قائم کیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی طرف فیصلہ کن قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان معاہدوں میں دیگر عرب ریاستوں کے شامل ہونے کے امکانات اس وقت کم از کم عارضی طور پر بہت کم ہو گئے تھے، جب غزہ پٹی کی جنگ شروع ہو گئی تھی۔
پھر اس سال فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہو جانے کے بعد سے خطے میں جو نئی بحرانی صورت حال پیدا ہوئی، اس کی وجہ سے بھی مشرق وسطیٰ کے ممالک کے اسرائیل کے ساتھ نئے معاہدوں کے امکانات بھی کم ہو گئے تھے۔

سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنا تاریخی عمل ہو گا، نیتن یاہو
یروشلم سے جمعرات کے دن ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکہ اور سعودی عرب کے مابین جوہری معاہدے اور اس میں ریاض کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی شرط سے متعلق صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کا بطور ریاست باقاعدہ تسلیم کیا جانا مشرق وسطیٰ میں دیرپا قیام امن کی منزل کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔
وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’سعودی عرب کا بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جانا مڈل ایسٹ میں قیام امن کے عمل میں آگے بڑھنے کے لیے ایک تاریخی چھلانگ ثابت ہو گا۔‘‘



