
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز، حقائق کے منافی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے پیر کو جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ ریمارکس نہ صرف تاریخی اور قانونی حقائق سے متصادم ہیں بلکہ وہ جنوبی ایشیا میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھارتی وزیر دفاع کا بیان
اتوار کے روز بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کو اپنی ریاستی پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ صرف جموں و کشمیر کے اس حصے پر بات کرے گا جسے ان کے بقول پاکستان نے "قبضے” میں رکھا ہوا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ بھارت جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور صنعتی ترقی پر کام کر رہا ہے، جبکہ پاکستان خودکش حملہ آور تیار کر رہا ہے۔
بھارتی وزیر دفاع کے ان بیانات پر پاکستان نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
پاکستان کا سخت ردعمل
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان ایک ایسے تنازع کے بارے میں دیا گیا ہے جو آج بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت مسلسل ایک منظم پالیسی کے تحت ایسے بیانات دے کر عالمی برادری کو گمراہ کرنے اور اصل صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق:
"جموں و کشمیر کوئی داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے ایسے بیانات مسئلہ کشمیر کی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتے۔
کشمیر میں بھارتی پالیسی پر تنقید
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی پالیسیوں، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے مسلسل پاکستان پر الزامات عائد کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کے بیانات دراصل کشمیر میں جاری صورتحال اور وہاں انسانی حقوق سے متعلق عالمی سطح پر اٹھنے والے سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
ان کے مطابق بھارت کو چاہیے کہ وہ الزام تراشی کے بجائے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔
اقوام متحدہ سے مطالبہ
پاکستان نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بھارت کے اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس لے۔
وزارت خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہی قراردادیں کشمیری عوام کو حق خودارادیت فراہم کرتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
خواجہ آصف کا بھی ردعمل
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ جموں و کشمیر آج بھی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ:
"جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔”
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن اور منصفانہ حل ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور مذاکرات کا خواہاں ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل، خصوصاً مسئلہ کشمیر، کو پرامن ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے، تاہم ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ مذاکرات ہی مسائل کا واحد دیرپا حل ہیں، لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق بین الاقوامی قوانین، سفارتی اصولوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کریں۔
مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت
جموں و کشمیر کا تنازع 1947 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود ہے۔ دونوں ممالک اس خطے کے مختلف حصوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ دونوں اپنے اپنے قانونی اور سیاسی مؤقف رکھتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حتمی حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے، جبکہ بھارت اس معاملے پر مختلف مؤقف اختیار کرتا ہے۔
یہ تنازع گزشتہ کئی دہائیوں سے جنوبی ایشیا کے امن اور سلامتی کے حوالے سے اہم بین الاقوامی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب جنوبی ایشیا پہلے ہی سکیورٹی، سرحدی کشیدگی اور سفارتی چیلنجز سے دوچار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اشتعال انگیز بیانات کی بجائے سفارتی رابطوں، مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینا خطے کے امن و استحکام کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے اپنے تازہ بیان میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر یقین رکھتا ہے، تاہم قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔




