
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں امریکی کانگریس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں باہمی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن، پارلیمانی روابط اور اقتصادی شراکت داری سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی وفد میں کانگریس کے ارکان ریان زنکے (Ryan Zinke) اور مائیکل بومگارٹنر (Michael Baumgartner) شامل تھے۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ اور پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی موجود تھیں۔
وزیراعظم کا امریکی وفد کا خیرمقدم
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی کانگریس کے ارکان کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مزید وسعت دینا چاہتا ہے، جبکہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ پر مبارکباد
وزیراعظم نے امریکی عوام اور کانگریس کو امریکہ کے یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مثبت روابط کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
پاک بھارت کشیدگی میں امریکی کردار کا ذکر
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے قیام میں امریکی کردار کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت اور فیصلہ کن سفارتی مداخلت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی، جنگ بندی ممکن ہوئی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے ساتھ لاکھوں شہریوں کی زندگیاں ممکنہ تباہی سے محفوظ رہیں۔
وزیراعظم نے اس کردار کو جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم سفارتی اقدام قرار دیا۔
اقتصادی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا بنیادی ستون قرار
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، کان کنی، توانائی اور جدید صنعتوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں معاشی استحکام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
امریکی کانگریس ارکان کا اظہارِ اطمینان
امریکی وفد کے ارکان ریان زنکے اور مائیکل بومگارٹنر نے ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دی گئی پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
کانگریس ارکان نے علاقائی امن، انسداد دہشت گردی اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
پارلیمانی سفارت کاری بڑھانے پر اتفاق
ملاقات میں دونوں فریقین نے پارلیمانی روابط کو مزید فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
اس حوالے سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان کانگریسی اور پارلیمانی وفود کے باقاعدہ تبادلوں، مشترکہ ملاقاتوں اور اعلیٰ سطحی دوروں میں اضافے پر زور دیا گیا تاکہ دونوں ممالک کی قانون ساز قیادت کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہو سکیں۔
امریکی کاروباری وفد کے اعزاز میں استقبالیہ
کانگریسی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی کارپوریٹ سیکٹر کے اعلیٰ ایگزیکٹوز کے اعزاز میں ایک خصوصی استقبالیہ بھی دیا۔
اس وفد میں امریکہ کی مختلف معروف کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے، جن کا تعلق آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، توانائی، کان کنی، معدنیات، مینوفیکچرنگ اور دیگر صنعتی شعبوں سے تھا۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتا ہے۔
انہوں نے امریکی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں آئی ٹی، قابلِ تجدید توانائی، معدنی وسائل، صنعتی پیداوار، زراعت اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو شفاف، محفوظ اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے مختلف اصلاحات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کا کردار
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاکستانی نژاد امریکی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک مضبوط پل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد افراد نہ صرف دونوں معاشروں کے درمیان روابط کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی اور کاروباری تعاون کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ دورہ کرنے والے کاروباری وفد میں بھی پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیات نمایاں طور پر موجود ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اعلیٰ حکام کی شرکت
استقبالیہ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء، سینئر سرکاری حکام اور مختلف وزارتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، جہاں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مستقبل میں اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاک امریکہ تعلقات کے نئے مرحلے کی جانب پیش رفت
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی کانگریسی وفد اور کاروباری نمائندوں کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور امریکہ دونوں اقتصادی تعاون، علاقائی استحکام، سرمایہ کاری اور پارلیمانی روابط کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی رابطوں، کاروباری وفود کے تبادلوں اور مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور معدنی وسائل کے شعبوں میں بھی نئی شراکت داریوں کے امکانات پیدا ہوں گے۔



