پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاکستانی سوشل میڈیا پر ڈپٹی کمشنر لاہور کی نشست پر غیر ضروری تنقید، حقائق اور سیاق و سباق کو نظر انداز کرنے پر سوالات

دنیا بھر میں سرکاری اداروں، نجی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں میں بھی ایسی غیر رسمی نشستیں منعقد ہوتی ہیں جہاں شرکاء رسمی اجلاسوں کے مقابلے میں نسبتاً آرام دہ انداز اختیار کرتے ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ڈپٹی کمشنر لاہور کی ایک مختصر ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں انہیں ایک ملاقات کے دوران آرام دہ انداز میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس پر تبصرے اور تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا، جبکہ بعض صارفین نے اسے سرکاری آداب اور انتظامی رویے سے جوڑنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم انتظامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ویڈیو یا تصویر پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کا مکمل پس منظر، موقع اور نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق جس نشست کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، وہ کوئی باضابطہ سرکاری اجلاس یا اعلیٰ سطح کا پروٹوکول میٹنگ نہیں تھی بلکہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی، جس کا مقصد مختلف امور پر دوستانہ ماحول میں تبادلۂ خیال کرنا تھا۔ اس ملاقات میں نہ کوئی حساس سرکاری معاملہ زیر بحث تھا، نہ ہی کوئی ایسا ایجنڈا موجود تھا جس کے لیے سخت پروٹوکول یا رسمی طرزِ نشست اختیار کرنا ناگزیر ہوتا۔
انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر رسمی ملاقاتوں میں ماحول نسبتاً دوستانہ اور آرام دہ ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ دنیا بھر میں سرکاری اداروں، نجی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں میں بھی ایسی غیر رسمی نشستیں منعقد ہوتی ہیں جہاں شرکاء رسمی اجلاسوں کے مقابلے میں نسبتاً آرام دہ انداز اختیار کرتے ہیں تاکہ آزادانہ اور مؤثر انداز میں خیالات کا تبادلہ کیا جا سکے۔
مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختصر ویڈیوز اکثر مکمل حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو کو اصل پس منظر سے الگ کر کے پیش کرنے سے ایسا تاثر پیدا ہو سکتا ہے جو حقیقت سے مختلف ہو۔ اسی لیے صحافتی اصول بھی یہی تقاضا کرتے ہیں کہ کسی بھی واقعے پر رائے قائم کرنے سے قبل اس کی مکمل معلومات اور دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے۔
انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی سرکاری افسر کی پیشہ ورانہ صلاحیت، دیانت داری اور کارکردگی کا معیار اس کے انتظامی فیصلوں، عوامی خدمت، مسائل کے حل اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں سے جانچا جانا چاہیے، نہ کہ کسی غیر رسمی ملاقات میں بیٹھنے کے انداز سے۔ ان کے مطابق کسی ایک مختصر منظر کو بنیاد بنا کر کسی افسر کی شخصیت یا پیشہ ورانہ رویے پر سوالات اٹھانا مناسب طرزِ عمل نہیں۔
سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث کسی بھی ویڈیو یا تصویر کو چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچایا جا سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ اگر کسی ویڈیو کو اس کے اصل تناظر سے ہٹا کر پیش کیا جائے تو اس سے نہ صرف عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں بلکہ متعلقہ شخص کی ساکھ اور ادارے کے وقار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ابلاغِ عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تنقید ہر جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے، لیکن یہ تنقید حقائق، شواہد اور مکمل معلومات کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اگر تنقید کا محور صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا چند سیکنڈ کا کلپ بن جائے تو اس سے تعمیری مکالمے کے بجائے غیر ضروری تنازعات جنم لیتے ہیں۔
سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسرز، بلاگرز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ تخلیق کرنے والوں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ان کے لاکھوں فالورز ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں، اس لیے انہیں کسی بھی معاملے پر مؤقف اختیار کرنے سے قبل مکمل حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے۔ غیر مصدقہ یا یکطرفہ تبصرے نہ صرف عوام کو گمراہ کر سکتے ہیں بلکہ کسی فرد یا ادارے کی ساکھ کو بھی بلاوجہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ ذمہ داری اور احتیاط بھی ضروری ہے۔ کسی بھی شخص یا سرکاری افسر کے بارے میں ایسا تاثر قائم کرنا جو مکمل حقائق پر مبنی نہ ہو، معاشرتی تقسیم اور بداعتمادی کو فروغ دے سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر ویڈیو کو مکمل حقیقت سمجھ لینا درست ہے، یا پھر کسی بھی معاملے پر فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے پس منظر اور اصل حقائق کا جائزہ لینا زیادہ مناسب ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن اسی رفتار نے غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ایسے حالات میں ذمہ دارانہ صحافت، حقائق کی جانچ اور متوازن تبصرہ ہی وہ اصول ہیں جو معاشرے میں اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button