مشرق وسطیٰ

ایران کی خلیجی ممالک کو سخت وارننگ، امریکی حملوں کی صورت میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران صرف دفاعی ردعمل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں امریکی مفادات اور حساس اقتصادی تنصیبات بھی ممکنہ جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ

تہران : مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایک وسیع اور مربوط سفارتی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ اگر وہ امریکہ، بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کو ایران پر مزید فوجی حملوں سے باز رکھنے اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر آمادہ نہ کر سکے تو تہران خطے میں موجود اہم توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ جوابی کارروائی کا ہدف بنا سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے پورے خلیجی خطے میں سلامتی، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے متعدد علاقائی اور ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنے خلیجی ہمسایہ ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی سرزمین، توانائی کے نیٹ ورک یا دیگر اہم تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا تو اس کا جواب صرف امریکی فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، تیل کی تنصیبات، بجلی کے نظام، پانی کی فراہمی کے مراکز، نقل و حمل کے نیٹ ورک اور دیگر اہم معاشی اثاثے بھی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔

اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں کا آغاز

ذرائع کے مطابق یہ پیغام ایران کی ایک منظم سفارتی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کا مقصد خلیجی ممالک کو اس ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی نئی فوجی کشیدگی کی صورت میں پورا خطہ شدید معاشی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ سفارتی سرگرمیاں اس وقت تیز ہوئیں جب 28 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے نیٹ ورک اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

اس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کے کئی اہم رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے رابطے کیے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے سعودی عرب، قطر، ترکی اور عمان کے وزرائے خارجہ سے تفصیلی گفتگو کی، جبکہ پاکستان کے آرمی چیف سے بھی رابطہ کیا گیا۔ ان سفارتی رابطوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور امریکہ پر سفارتی دباؤ بڑھانا تھا تاکہ ممکنہ جنگ کو روکا جا سکے۔

خلیجی ممالک سے ٹرمپ پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کی اپیل

گفتگو سے واقف ایک سینئر علاقائی سفارت کار کے مطابق عباس عراقچی نے واشنگٹن کے قریبی عرب اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ امریکہ پر اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کریں اور صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے باز رکھیں۔

ذرائع کے مطابق عراقچی نے واضح کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران صرف دفاعی ردعمل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں امریکی مفادات اور حساس اقتصادی تنصیبات بھی ممکنہ جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتی ہیں۔

سفارت کار کے مطابق ہر ملاقات اور ہر رابطے میں ایرانی وزیر خارجہ کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا:

"ہم کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن پورے خطے کو مزید کشیدگی اور تباہی سے بچانے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری اور مذاکرات ہیں۔”

خلیجی ذرائع نے ایرانی پیغام کی تصدیق کی

ایک خلیجی ذریعے نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کا پیغام انتہائی واضح اور دوٹوک تھا۔

ذرائع کے مطابق ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایرانی توانائی کے نیٹ ورک یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا تو تہران خلیجی ممالک میں موجود توانائی کی تنصیبات، تیل کے ذخائر، ریفائنریوں، بجلی کے گرڈ، بندرگاہوں، نقل و حمل کے نظام اور دیگر حساس اہداف کو جوابی کارروائی کا حصہ بنا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس حکمت عملی کے ذریعے یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ جنگ کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خلیجی خطہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

سعودی ولی عہد کا ٹرمپ سے رابطہ

رپورٹ کے مطابق ایران کی سفارتی مہم کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائی کو مؤخر کریں، جنگ بندی کی حمایت کریں اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کو ترجیح دیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی قیادت کا مؤقف تھا کہ خطے میں مزید عسکری کارروائیاں صرف تباہی، معاشی نقصان اور عدم استحکام کو جنم دیں گی، جبکہ سفارت کاری تمام فریقوں کے لیے زیادہ مؤثر اور دیرپا حل فراہم کر سکتی ہے۔

قطر، عمان اور سعودی عرب کی سفارتی کوششیں

ایک دوسرے خلیجی ذریعے نے بتایا کہ ایران کی جانب سے دیا جانے والا انتباہ اگرچہ تمام خلیجی ممالک کے لیے تھا، تاہم اس کا بنیادی مخاطب سعودی عرب اور قطر تھے، کیونکہ یہ دونوں ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ قطر، عمان اور سعودی عرب نے بھی واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے اور خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملوں کا ایک اور دور شروع ہوا تو اس کے نتیجے میں "پورا خطہ آگ کا گولہ بن سکتا ہے” اور اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔

ٹرمپ کا مشروط مؤقف

اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اگست کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے خلاف ایک ممکنہ فوجی کارروائی کو اس شرط پر مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ جلد کسی سفارتی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات پیدا ہوں۔

ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، تاہم اگر سفارتی حل ممکن ہو تو وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں گے۔

سعودی عرب کا دوٹوک مؤقف

اگرچہ سعودی عرب نے امریکہ سے سفارت کاری جاری رکھنے کی اپیل کی، تاہم ریاض نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر اس کی سرزمین یا اہم تنصیبات کو کسی بھی جانب سے نشانہ بنایا گیا تو وہ اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایک خلیجی ذریعے کے مطابق سعودی حکام نے واشنگٹن اور دیگر متعلقہ فریقوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ مملکت امن کی خواہاں ہے، لیکن اگر اس کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ بھرپور فوجی جواب دے گی۔

علاقائی تجزیہ

شاہی دربار سے قریبی تعلق رکھنے والے سعودی تجزیہ کار علی شہابی کے مطابق سعودی قیادت کا خیال ہے کہ مسلسل فوجی کشیدگی سے کسی بھی فریق کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

ان کے مطابق مملکت کا مؤقف ہے کہ ایران پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں استحکام اور مذاکرات کا عمل جاری رکھنا ایک زیادہ مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محدود اور متناسب ردعمل کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے ہی ایک ایسے معاہدے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں جو نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں پائیدار استحکام پیدا کرے۔

خطے کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال مشرق وسطیٰ کے لیے ایک انتہائی نازک مرحلہ ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی ریاستوں، عالمی توانائی کی منڈیوں، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل، بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں واشنگٹن، تہران، ریاض، دوحہ، مسقط اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں کے درمیان ہونے والے سفارتی رابطے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا موجودہ بحران مذاکرات اور مفاہمت کی طرف بڑھتا ہے یا خطہ ایک نئی اور زیادہ وسیع فوجی کشیدگی کا سامنا کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button