
سیاسی سرکس ……علی عباس کاظمی
ہماری سیاست کا ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں اداروں کے بجائے افراد کو مرکز بنایا جاتا ہے۔ ہم منشور سے زیادہ شخصیت دیکھتے ہیں، پالیسی سے زیادہ تقریر سنتے ہیں اور کارکردگی سے زیادہ جلسے کا جوش دیکھتے ہیں
کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے سیاست دان ایک دوسرے کو قوم کا سب سے بڑا دشمن ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور کیوں لگاتے ہیں، مگر اقتدار کے ایوان میں پہنچتے ہی وہی دشمنی اچانک دوستی، مفاہمت اور شراکت داری میں کیسے بدل جاتی ہے؟ جلسوں میں ایک دوسرے کے خلاف آگ اگلنے والے، ٹی وی اسکرینوں پر لفظوں کی تلواریں چلانے والے اور کارکنوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے والے سیاست دان اقتدار کی میز پر پہنچتے ہی یوں شیر و شکر ہو جاتے ہیں جیسے گزشتہ تمام لڑائیاں کسی سیاسی تھیٹر کا حصہ تھیں۔ عوام ایک دوسرے کے گریبان پکڑتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی بناتے ہیں، مگر جن رہنماؤں کے نام پر یہ جنگ لڑی جاتی ہے، وہ ضرورت پڑنے پر ایک ہی میز پر بیٹھ کر سیاسی مستقبل کے فیصلے بھی کر لیتے ہیں۔ پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ۔۔۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کے سامنے جو جنگ دکھائی جا رہی ہے، اس کے پردے کے پیچھے اصل کھیل کیا ہے؟
ہماری سیاست کا شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ سیاست دانوں نے اپنے سیاسی اختلاف کو عوام کی سماجی دشمنی بنا دیا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف شعلہ بیانی ان کی سیاست کا ایندھن ہے، مگر اقتدار ان کی منزلِ مشترک۔ کل تک جو شخص دوسرے کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دے رہا تھا، آج ضرورت پڑنے پر اسی کے ساتھ بیٹھنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا۔ کل جسے کرپٹ، نااہل، ملک دشمن یا جمہوریت کا قاتل کہا جاتا تھا، حالات بدلتے ہی وہی شخص سیاسی ضرورت، قومی مفاد یا جمہوری مفاہمت کی خوب صورت اصطلاحات کے پردے میں قابلِ قبول ہو جاتا ہے۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ فلاں ہمارا دشمن ہے، فلاں ملک کو تباہ کر رہا ہے، فلاں کے آنے سے قیامت آ جائے گی۔۔۔ مگر اقتدار کے کھیل میں کبھی کبھی وہی دشمن اگلی صف میں شریکِ سفر بن جاتا ہے۔ سیاست دانوں کے لیے یہ شاید حکمتِ عملی ہو، لیکن عوام کے لیے یہ مسلسل ذہنی استحصال ہے۔
پاکستانی سیاست کا المیہ صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حکومتیں بدلنے کے باوجود سیاسی کلچر نہیں بدلتا۔ ہر الیکشن سے پہلے نئے نعرے تراشے جاتے ہیں، نئے خواب بیچے جاتے ہیں اور پرانے چہروں کو نئی پیکنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ کبھی تبدیلی، کبھی انقلاب، کبھی احتساب، کبھی خدمت، کبھی خوشحالی اور کبھی عوامی نجات کا نعرہ۔ انتخابی موسم میں غریب اچانک سیاست کا مرکز بن جاتا ہے، مزدور قوم کا معمار قرار پاتا ہے، نوجوان ملک کا مستقبل بن جاتا ہے اور کسان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی۔ لیکن جیسے ہی ووٹ صندوق میں بند ہوتا ہے، یہی عوام سیاسی ترجیحات کی فہرست میں نیچے اترتے اترتے کہیں غائب ہو جاتے ہیں۔ہماری سیاسی یادداشت بھی عجیب ہے۔ ہم کل کے وعدے آج بھول جاتے ہیں اور آج کے وعدے کل پھر نئے سرے سے سننے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہم یاد نہیں رکھتے کہ کس نے کس کو چور کہا تھا، کس نے کس کے خلاف مقدمات بنانے کا اعلان کیا تھا، کس نے کس کے اقتدار کو ملک کے لیے تباہ کن قرار دیا تھا اور کس نے کس کو جمہوریت کا دشمن کہا تھا۔ ضرورت بدلتی ہے تو الفاظ بدل جاتے ہیں، مفادات بدلتے ہیں تو دشمنی کی تعریف بھی بدل جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری سیاست نظریات کی نہیں بلکہ موسمی اتحادوں کی سیاست بن چکی ہے، جہاں اصول مستقل نہیں، صرف مفاد مستقل ہے۔ ایک باری ختم ہوتی ہے تو دوسری باری کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ حکومت میں ہوں تو اقتدار بچانے کی فکر، اپوزیشن میں ہوں تو اگلی حکومت حاصل کرنے کی تگ و دو۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا واقعی قصور صرف سیاست دانوں کا ہے؟ میں نے آج تک کسی کرسی کو دوڑتے نہیں دیکھا۔ نہ وہ کسی جلسے میں گئی، نہ اس نے نعرہ لگایا، نہ کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر کہا کہ مجھے حاصل کرو۔ وہ خاموشی سے اپنی جگہ کھڑی رہتی ہے، مگر انسان اس کے لیے انسانیت تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔ کرسی قاتل نہیں ہوتی، لیکن کرسی کی ہوس کبھی کبھی انسان کو قاتل ضرور بنا دیتی ہے۔ اقتدار آگ کی مانند ہے۔۔۔جو اسے روشنی سمجھ کر تھامتا ہے وہ راستے روشن کرتا ہے اور جو اسے اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتا ہے وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ پورا معاشرہ جلا دیتا ہے۔اصل مسئلہ کرسی نہیں، کرسی پر بیٹھنے والے کا کردار ہے۔ اقتدار کسی انسان کو نیا کردار نہیں دیتا، صرف اس کے اندر چھپے کردار کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ جو شخص اقتدار کو امانت سمجھتا ہے وہ ادارے مضبوط کرتا ہے، قانون کو اپنے تابع نہیں کرتا اور اختلاف کو برداشت کرتا ہے۔ لیکن جو اقتدار کو ذاتی ملکیت سمجھ بیٹھے، اس کے لیے قانون راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے، اختلاف دشمنی، سوال بغاوت اور چاپلوسی وفاداری بن جاتی ہے۔ پھر آئین کی کتاب وہی رہتی ہے مگر اس کی تشریح بدل جاتی ہے، قانون وہی ہوتا ہے مگر اس کا اطلاق چہروں کے مطابق ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کمزور اور شخصیت پرستی مضبوط ہونا شروع ہوتی ہے۔
ہماری سیاست کا ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں اداروں کے بجائے افراد کو مرکز بنایا جاتا ہے۔ ہم منشور سے زیادہ شخصیت دیکھتے ہیں، پالیسی سے زیادہ تقریر سنتے ہیں اور کارکردگی سے زیادہ جلسے کا جوش دیکھتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی مضبوط ادارہ بننے کے بجائے اکثر شخصیات کے گرد گھومتی رہتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لیڈر بدلنے سے سیاست بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، مگر نظام اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ ہم چہرہ بدلنے کو تبدیلی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقی تبدیلی نظام، ترجیحات اور سیاسی رویوں کی تبدیلی کا نام ہے۔عوام بھی اس کھیل سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں۔ ہم پانچ سال حکمرانوں کو برا بھلا کہتے ہیں، مگر انتخاب کے دن پھر ذات، برادری، دھڑے، تعلق، جذبات اور نعروں کے زیرِ اثر وہی فیصلے کرتے ہیں۔ ہم سیاسی جماعتوں کے کارکن بن کر اپنے ہم وطنوں سے لڑتے ہیں، مگر ہمارے سیاسی رہنما ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست کا سب سے بڑا تماشہ سامنے آتا ہےکہ اسٹیج پر لڑنے والے کردار جانتے ہیں کہ پردہ گرتے ہی انہیں ایک ہی ڈریسنگ روم میں واپس جانا ہے، مگر تماشائی "تھیٹر” سے نکلتے ہوئے ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ کب تک سیاست دانوں کی لفظی جنگ عوام کی حقیقی دشمنی بنتی رہے گی؟ کب تک ہر الیکشن میں نئے نعروں کے ساتھ پرانے چہرے واپس آتے رہیں گے؟ کب تک عوام کو صرف ووٹ کے موسم میں یاد کیا جائے گا؟ کب تک احتساب سیاسی مخالف کے لیے تلوار اور اپنے لیے ڈھال بنا رہے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کب تک ہم اپنے سیاسی شعور کی ذمہ داری دوسروں کے حوالے کیے بیٹھے رہیں گے؟جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔۔۔ جمہوریت سوال کرنے، اختلاف برداشت کرنے، حساب مانگنے اور اقتدار کو امانت سمجھنے کا نام ہے۔ اگر عوام نے سیاسی نعروں کے بجائے کارکردگی دیکھنا شروع کر دی، خاندان کے بجائے کردار، تقریر کے بجائے پالیسی، وعدے کے بجائے نتیجہ اور شخصیت کے بجائے اہلیت کو ترجیح دینا شروع کر دیا تو شاید سیاسی سرکس میں مداریوں کی تعداد بھی کم ہونے لگے۔ کیونکہ سیاست دان اسی وقت تک عوام کو تقسیم کر کے فائدہ اٹھاتا ہے جب تک عوام تقسیم ہونے پر آمادہ رہیں۔
وقت کا انصاف بڑا عجیب ہے۔ وہ کسی سے کرسی نہیں چھینتا، صرف اتنی مہلت دیتا ہے کہ انسان خود ثابت کر دے کہ وہ اس کے قابل تھا یا نہیں۔ ایک دن کرسی وہیں رہ جاتی ہے، کمرہ وہی، میز وہی، قلم وہی؛ صرف نام بدل جاتا ہے۔ مگر اقتدار میں کیے گئے فیصلوں کی بازگشت دیواروں میں نہیں مرتی، وہ نسلوں کے نصیب سے ٹکراتی رہتی ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اگلی کرسی پر کون بیٹھے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب تک تماشائی بنے رہیں گے؟ قومیں صرف برے حکمرانوں سے تباہ نہیں ہوتیں، کبھی کبھی بے خبر اور تقسیم شدہ عوام بھی برے حکمرانوں کو بار بار موقع دے کر اپنی شکست میں شریک ہو جاتے ہیں۔ کرسی آخر کرسی ہے، آج کسی کے پاس ہے، کل کسی اور کے پاس ہوگی مگر قوم اگر ایک بار اپنی آنکھیں کھول لے تو تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔ کرسی بدلنے سے ملک نہیں بدلتا، کرسی کے سامنے کھڑے عوام کا شعور بدل جائے تو تاریخ بدل جاتی ہے۔


