
ترقی کے نام پر۔۔۔علی عباس کاظمی
کسان زمین بیچتا ہے تو ہم فوراً اسے آنے والی نسلوں کا دشمن قرار دے دیتے ہیں، لیکن کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ اسے اس مقام تک پہنچایا کس نے؟
ہم اکثر کہتے ہیں کہ زرعی زمین قومی اثاثہ ہے، مگر جس شخص کی پوری زندگی اسی زمین سے جڑی ہے، اس کی آواز ہماری بحث میں سب سے کم سنائی دیتی ہے۔ ہم نقشے دیکھتے ہیں، ہاؤسنگ اسکیموں کے اشتہار دیکھتے ہیں، سڑکوں کی چوڑائی ناپتے ہیں اور زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حساب لگاتے ہیں، لیکن کبھی اس کسان کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے جو اپنی زمین کے سامنے کھڑا سوچ رہا ہوتا ہے کہ اسے سنبھالے یا بیچ دے۔ یہ فیصلہ صرف زمین کے ٹکڑے کا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ باپ کی وراثت، اپنے بچوں کا روزگار، نسلوں کی محنت اور ایک پورا طرز زندگی داؤ پر لگا ہوتا ہے۔کسان سے اکثر کہا جاتا ہے کہ زمین مت بیچو، کیونکہ یہ تمہارا مستقبل ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی کسان سے یہ پوچھا کہ آج وہ اسی زمین پر زندہ کیسے رہے؟ اگر بیج مہنگا ہے، کھاد مہنگی ہے، پانی کا مسئلہ ہے، بجلی اور ڈیزل کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، فصل کی قیمت کا یقین نہیں اور قدرتی آفات کا خطرہ الگ موجود ہے تو صرف یہ نصیحت کہ زمین نہ بیچو، کافی کیسے ہوسکتی ہے؟ جس معاشرے میں زمین سے پیداوار حاصل کرنا مشکل اور زمین بیچ کر رقم حاصل کرنا آسان بنا دیا جائے، وہاں کسان کے فیصلے پر حیرت کرنا دراصل اپنے بنائے ہوئے نظام سے نظریں چرانا ہے۔
کسان زمین بیچتا ہے تو ہم فوراً اسے آنے والی نسلوں کا دشمن قرار دے دیتے ہیں، لیکن کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ اسے اس مقام تک پہنچایا کس نے؟ اگر ایک کسان کو کئی سال کاشت کے بعد اتنی آمدن نہیں ملتی جتنی ایک ڈویلپر اسے زمین کا ایک حصہ بیچنے پر پیش کر دیتا ہے تو یہ صرف کسان کی کمزوری نہیں، ہماری زرعی معیشت کی کمزوری بھی ہے۔ کسان کو زمین کا مالک تو بنایا گیا، مگر کیا اسے زمین کا محفوظ محافظ بننے کے لیے معاشی طاقت بھی دی گئی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں کسان کے ہاتھ میں موجود زمین سے زیادہ اس کے خالی ہوتے ہاتھوں کی فکر کرنی چاہیے۔یہاں ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہاؤسنگ اسکیمیں کسان کو اس وقت نظر آتی ہیں جب زمین سونے کی قیمت دینے لگتی ہے، جبکہ ریاست اکثر کسان کو اس وقت یاد کرتی ہے جب فصل کا بحران پیدا ہوجائے۔ جب گندم چاہیے تو کسان اہم ہے، جب سبزی مہنگی ہو تو کسان اہم ہے، جب خوراک کی کمی کا خدشہ ہو تو کسان اہم ہے، لیکن جب اسی کسان کی زمین پر تعمیراتی دباؤ بڑھتا ہے تو اس کی معاشی مشکلات اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ کیا یہ انصاف ہے کہ جس شخص سے ملک کو خوراک چاہیے، اسے اپنی زمین بچانے کے لیے اپنی ہی معاشی حالت سے جنگ بھی لڑنی پڑے؟
زمین کی فروخت کا ایک پہلو وہ بھی ہے جس پر شاید ہم کم بات کرتے ہیں۔ کسان زمین بیچ کر ایک بڑی رقم حاصل کرتا ہے تو بظاہر اس کا معیار زندگی بہتر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر زمین ایک مرتبہ فروخت ہوجائے تو دوبارہ خریدنا اکثر ممکن نہیں رہتا۔ رقم خرچ ہوسکتی ہے، تقسیم ہوسکتی ہے، کاروبار میں ڈوب سکتی ہے یا چند برسوں میں ختم ہوسکتی ہے، لیکن زمین واپس حاصل کرنا آسان نہیں۔ یوں ایک مستقل آمدن پیدا کرنے والا اثاثہ کبھی کبھی ایک وقتی مالی فائدے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد وہی خاندان جس کے پاس کبھی زمین تھی، مستقبل میں مزدوری، ملازمت یا چھوٹے کاروبار پر انحصار کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کسان کو اپنی زمین بیچنے کا حق ہی نہیں ہونا چاہیے؟ نہیں۔ مسئلہ کسی فرد کے جائز حق سے انکار کا نہیں بلکہ اس وسیع نظام کا ہے جس میں اجتماعی ضرورت اور انفرادی مجبوری ایک دوسرے کے سامنے کھڑی کردی گئی ہیں۔ اگر زرعی زمین واقعی قومی اہمیت رکھتی ہے تو ریاست کو کسان کو صرف قانونی پابندیوں سے نہیں، معاشی سہارا دے کر زمین بچانے کے قابل بنانا ہوگا۔ جس زمین کو بچانا ہے، اس کے مالک کو بھی اس زمین پر باعزت زندگی گزارنے کا موقع دینا ہوگا۔
کسان کی زمین آخر اتنی تیزی سے قیمتی کیوں ہوجاتی ہے؟ اس لیے کہ ہم نے زمین کے استعمال کو تبدیل کرنے سے پہلے اس کے طویل مدتی اثرات کو اکثر ثانوی حیثیت دی۔ ایک کھیت کو رہائشی پلاٹ میں بدلنا کسی ایک مالک کا معاملہ دکھائی دیتا ہے، مگر جب یہی عمل ہزاروں ایکڑ پر پھیل جائے تو پانی، ٹریفک، ماحول، خوراک اور شہری انفراسٹرکچر سب متاثر ہوتے ہیں۔ ایک کسان کو اپنی زمین کی قیمت مل جاتی ہے، مگر اس تبدیلی کے اجتماعی اخراجات کون ادا کرتا ہے؟ آنے والی نسلیں، شہری ادارے، حکومت اور بالآخر عام آدمی۔۔۔اور عام آدمی بھی اس کہانی سے باہر نہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ جب نئی ہاؤسنگ اسکیم کا اشتہار دیکھتے ہیں تو صرف مستقبل کی سرمایہ کاری دیکھتے ہیں۔ شاید ہمیں یہ سوال بھی دیکھنا چاہیے کہ جس زمین پر ہم اپنا مستقبل بنا رہے ہیں، وہ پہلے کیا پیدا کرتی تھی۔ اگر وہاں گندم اگتی تھی تو اب ہماری روٹی کہاں سے آئے گی؟ اگر وہاں درخت اور کھلی زمین تھی تو اب بارش کا پانی کہاں جائے گا؟ اگر وہاں کسان اور زرعی مزدور کام کرتے تھے تو اب ان کا روزگار کہاں ہوگا؟ کسی پلاٹ کی فرد یا رجسٹری ان سوالات کا جواب نہیں دیتی۔
کسان کی آواز دراصل صرف کسان کی آواز نہیں۔ اس میں صارف کی روٹی، شہری کا پانی، مزدور کا روزگار اور بچے کا مستقبل بھی شامل ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ کسان عموماً تب بولتا ہے جب اس کی فصل کی قیمت کم ہوجاتی ہے، پانی کا مسئلہ شدت اختیار کرجاتا ہے یا زمین فروخت کرنے کے سوا راستے محدود رہ جاتے ہیں۔ ہمیں اس کی آواز اس مرحلے سے پہلے سننی ہوگی۔ اسے احتجاج کرنے پر مجبور ہونے سے پہلے سننا ہوگا۔اس کے لیے زرعی زمین کے تحفظ کی بات صرف پابندیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ کسان کو بہتر منڈی، مناسب زرعی قیمت، سستی اور قابل اعتماد سہولیات، پانی کا مؤثر انتظام، جدید ٹیکنالوجی، فصلوں کے نقصان سے تحفظ اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنا بھی اسی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔ اگر دیہات میں تعلیم، صحت، روزگار اور کاروبار کے مواقع کم ہوں گے تو نئی نسل زمین سے وابستہ رہنے کے بجائے شہر کا رخ کرے گی۔ پھر زمین صرف کسان نہیں بیچے گا، اس سے جڑی پوری نسل آہستہ آہستہ زراعت سے دور ہوجائے گی۔
ہمیں کسان کو صرف خوراک پیدا کرنے والے ہاتھ کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے شہری کے طور پر دیکھنا ہوگا جس کے اپنے خواب، مشکلات، حقوق اور فیصلے ہیں۔ وہ اپنی زمین کا محافظ تب بنے گا جب اسے یہ یقین ہوگا کہ زمین سنبھالنے میں اس کا اپنا مستقبل بھی محفوظ ہے۔ ورنہ ہم اس سے قربانی مانگتے رہیں گے اور بازار اسے دوسری طرف کھینچتا رہے گا۔آج اگر کسی کھیت کے کنارے کھڑا کسان اپنی زمین کو دیکھ کر خاموش ہے تو ضروری نہیں کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ ممکن ہے وہ صرف یہ سوچ رہا ہو کہ اس زمین کو اپنے بچوں کے لیے بچائے یا بچوں کے مستقبل کے لیے اسے فروخت کردے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کسان زمین نہ بیچے تو پہلے ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ زمین سنبھالنا اس کے لیے خسارے کا سودا نہیں۔ ورنہ کل جب کھیتوں کی جگہ بستیاں ہوں گی تو شکایت کسان سے نہیں، اس معاشرے سے ہونی چاہیے جس نے اسے زمین سے وابستہ رہنے کی کوئی مضبوط وجہ ہی نہیں دی۔


