بین الاقوامیاہم خبریں

امریکہ : سی این این سے اظہار یکجہتی… چار بڑے نیٹ ورکس نے ٹرمپ کی خبروں کی کوریج روک دی

ان چار نیٹ ورکس میں سی بی ایس، اے بی سی، این بی سی اور فوکس شامل ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ایجنسیوں‌کے ساتھ

چار بڑے امریکی نیٹ ورکس جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرگرمیوں کی مشترکہ صحافتی کوریج کرنے والے گروپ کا حصہ ہیں، انھوں نے آج پیر کے روز اس کوریج کو روکنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ فیصلہ امریکی صدر کی جانب سے وائٹ ہاؤس سے سی این این کو خارج کیے جانے کے خلاف اس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کیا گیا ہے۔

فوکس نیٹ ورک کے نمائندے اور اس گروپ کے کوآرڈینیٹر برائن بونٹن نے کہا "آج سے ٹیلی ویژن کوریج کا مشترکہ گروپ صدر کی شرکت والی ان تقریبات کی کوریج نہیں کرے گا جو عموماً مشترکہ کوریج کے دائرے میں آتی ہیں”۔

واضح رہے کہ فوکس نیٹ ورک چوبیس گھنٹے امریکی صدر کی سرگرمیوں کی عکس بندی کرنے اور ریکارڈ کی گئی فوٹیج دیگر ذرائع ابلاغ کو فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

ان چار نیٹ ورکس میں سی بی ایس، اے بی سی، این بی سی اور فوکس شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب میڈیا اداروں ایم ایس ناؤ، سی این این اور پولیٹیکو نے آج ہی اعلان کیا کہ وہ اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔ یہ اعلان امریکی صدر کی جانب سے ان اداروں کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روکنے کے فیصلے کے بعد کیا گیا۔

تینوں اداروں نے حکومت کو مطلع کیا ہے کہ وہ ضلع کولمبیا کی ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے اور اس امکان کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس ہفتے ہی فوری سماعتیں منعقد کی جا سکتی ہیں۔

تینوں اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں لکھا ’’کسی پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے بغیر وائٹ ہاؤس نے ہمارے صحافیوں کے کام کرنے کے اجازت نامے منسوخ کر دیے، کیونکہ اسے ہماری خبروں کی کوریج پر اعتراض تھا۔ اگر اس معاملے کا سدباب نہ کیا گیا تو یہ آزادی صحافت اور عوام کے اس حق کے لیے خطرہ بن جائے گا کہ انہیں حکومتی مداخلت سے پاک آزاد صحافت میسر ہو۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے کا مقصد ’’پہلی آئینی ترمیم کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ اور اس اصول کا دفاع کرنا ہے کہ حکومت کو یہ طے کرنے کا حق حاصل نہیں کہ صحافت کیا رپورٹ یا شائع کرے۔‘‘

ادھر مقدمہ دائر کیے جانے کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے پابندی کا دفاع کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ’’وائٹ ہاؤس آزاد صحافت پر تنقید نہیں کر رہا، جسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، بلکہ جعلی خبروں پر نکتہ چینی کر رہا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا ’’یہ بدعنوان، جانبدار اور مکمل طور پر بے قابو ہے … یہ ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسے ابھی روکنا ضروری ہے!‘‘

موجودہ امریکی صدر کے تعلقات ذرائع ابلاغ کے ساتھ طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر وائٹ ہاؤس یا اپنے صدارتی طیارے میں موجود خواتین اور مرد صحافیوں کو توہین آمیز الفاظ کہہ چکے اور انہیں سرزنش کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

ٹرمپ نے متعدد میڈیا نیٹ ورکس اور اخبارات پر بھی اپنے بارے میں حقائق کو مسخ کرنے اور جھوٹی خبریں شائع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اس کے علاوہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے گذشتہ سال روئٹرز کے ساتھ مل کر الگ مقدمہ دائر کیا تھا، جب دونوں اداروں کو صدر کی روزمرہ نقل و حرکت کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے گروپ میں شامل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button