کالمزپیر مشتاق رضوی

پاکستان میں قومی کرنسی کی بے توقیری – ایک قومی المیہ……پیر مشتاق رضوی

شادی یا محفل میں نوٹ اچھالنا سخاوت نہیں، طاقت اور دولت کی نمائش بن گیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں جتنا زیادہ پیسہ ہوا میں اڑے گا اتنی زیادہ عزت بڑھے گی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان کی قومی کرنسی صرف لین دین کا ذریعہ نہیں، یہ ریاست کی خودمختاری، نظریے اور بانی پاکستان کی عزت کی علامت ہے۔ ہر نوٹ پر قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر، اسٹیٹ بینک کا وعدہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام درج ہے۔ لیکن افسوس کہ آج اسی کرنسی کو سرعام بے توقیر کیا جا رہا ہے اور کوئی مؤثر روک تھام نظر نہیں آتی۔ شادیوں میں نوٹوں کی بارش، مجروں اور محفلوں میں پیروں میں پھینکنا، مذہبی میلوں اور درگاہوں پر نچھاور کرنا، نوٹوں کے ہار بنا کر پہنانا اور روزمرہ گفتگو میں رشوت کو "قائد اعظم لگانا” کہنا، یہ سب اسی بے حرمتی کی مختلف شکلیں ہیں۔ قومی اور صوبائی حکومتیں اس کھلی بے حرمتی کے خلاف موثر اقدامات کیوں نہیں کرتیں۔ اس کی بنیادی وجہ قانون کا فقدان ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ قیام پاکستان کو79 سال سے زیادہ گزر گئے لیکن آج تک قومی کرنسی کی حرمت کے تحفظ کے لیے کوئی جامع قانون موجود نہیں۔ بھارت نے 1971 میں ہی انسداد بے حرمتی قومی اعزاز ایکٹ بنا دیا تھا جس میں قومی پرچم اور قومی ترانے کی توہین پر قید کی سزا رکھی گئی لیکن پاکستان میں قومی پرچم کے لیے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 بی کے تحت تین سال قید کی سزا تو موجود ہے مگر کرنسی نوٹ کے لیے ایسی کوئی واضح دفعہ نہیں تھی۔ 2020 میں وزارت داخلہ نے سینیٹ میں ایک ترمیمی بل پیش کیا جس میں تجویز دی گئی کہ قومی پرچم اور قائد اعظم کی تصویر کی بے حرمتی پر دفعہ 123 سی کے تحت پانچ سال تک قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ ہوگا، لیکن یہ بل آج تک قانون کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ دوسری وجہ ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے اور اسٹیٹ بینک کا سارا زور ڈالر کی ذخیرہ اندوزی، حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی ایکسچینج کمپنیوں پر ہے، جو اپنی جگہ درست ہے، لیکن سماجی سطح پر نوٹوں کی تذلیل کو جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پولیس کے سامنے نوٹوں کی بارش ہوتی ہے اور کوئی روکتا نہیں۔اس بے حسی میں عوام اور سماج بھی برابر کے شریک ہیں۔ قانون جب خاموش ہو جائے تو معاشرے کا ضمیر جاگنا چاہیے، لیکن ہمارا ضمیر بھی سن ہو چکا ہے۔ اس کی پہلی وجہ پیسے کو صرف قیمت کے طور پر دیکھنا ہے۔ ہمارے ذہن میں نوٹ کی عزت نہیں، صرف اس کی مالیت ہے۔ اسی لیے ہم پرانا نوٹ پھٹا ہوا سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔ دوسری وجہ دکھاوے کا کلچر ہے۔ شادی یا محفل میں نوٹ اچھالنا سخاوت نہیں، طاقت اور دولت کی نمائش بن گیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں جتنا زیادہ پیسہ ہوا میں اڑے گا اتنی زیادہ عزت بڑھے گی۔ تیسری وجہ روزمرہ تماشہ دیکھ کر سن ہو جانا ہے۔ جب ہر شادی کی ویڈیو میں یہی منظر ہو تو دماغ اسے نارمل سمجھ لیتا ہے۔ سماجیات میں اسے برائی کا معمول بن جانا کہتے ہیں۔ چوتھی وجہ محرومی ہے۔ جس معاشرے میں لوگ آٹے، بجلی اور انصاف کے لیے لڑ رہے ہوں، وہاں کرنسی کی حرمت کا موضوع اشرافیہ کی بات لگتا ہے۔اس بے توقیری کی انتہا وہ عام محاورہ ہے جو زبان زد عام ہے کہ "کام کرانے کے لیے قائد اعظم لگاؤ”۔ یہ جملہ نوٹ پیروں میں پھینکنے سے بھی بڑی بے حرمتی ہے۔ نوٹ پھاڑنا کاغذ کی بے حرمتی ہے، لیکن اس جملے نے سوچ کی بے حرمتی کی ہے۔ جس قائد نے فرمایا تھا کہ رشوت اور کرپشن کو کینسر سمجھ کر جڑ سے اکھاڑ پھینکو، آج اسی کی تصویر کو رشوت کا نام دے دیا گیا ہے۔ ایک بچہ جب سنتا ہے کہ تھانے اور دفتر میں قائد اعظم لگتا ہے تو اس کے ذہن میں قائد کا مطلب ایمانداری نہیں بلکہ رشوت بن جاتا ہے۔ کرنسی دراصل ریاست کا وعدہ ہوتی ہے، اسٹیٹ بینک لکھتا ہے کہ حامل ہذا کو مطالبہ پر یہ رقم ادا کی جائے گی۔ جب ہم کہتے ہیں قائد لگاؤ تو ہم کہہ رہے ہیں کہ ریاست کا وعدہ نہیں، رشوت چلتی ہے۔ یہ معاشی نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ جب برائی لطیفہ اور محاورہ بن جائے تو وہ برائی نہیں رہتی، کلچر بن جاتی ہے اور یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔نوٹوں کی بے حرمتی کا ایک اور افسوسناک پہلو مذہبی اور دیگر تقریبات میں نوٹ نچھاور کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نوٹ پر بانی پاکستان کی تصویر ہے اور اس پر اللہ اور ریاست کا نام ہے، تو اسے سرعام اچھالنا اور پیروں تلے روندنا کیا بے حرمتی نہیں۔ یقیناً یہ کھلی بے حرمتی ہے اور قومی اقدار کی پامالی ہے۔ مذہبی تقریبات پر تو یہ دوہرا گناہ ہے۔ اسلام میں مال کو ضائع کرنا اسراف ہے اور قرآن میں اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ درگاہوں، عرسوں اور محفل نعت میں نوٹ پھینک کر ثواب نہیں ملتا، بلکہ تماشہ بنتا ہے۔ بزرگوں کا ادب دل سے ہوتا ہے، نوٹ اچھالنے سے نہیں۔ قومی اقدار تین چیزوں سے بنتی ہیں، نظریہ، محنت اور برابری۔ نوٹوں کی بارش نظریے کی توہین ہے کیونکہ قائد نے سادگی سکھائی، محنت کی توہین ہے کیونکہ ایک مزدور دن بھر میں پانچ سو کماتا ہے اور ایک منٹ میں پچاس ہزار اڑا دیا جاتا ہے، اور برابری کی توہین ہے کیونکہ غریب اس منظر سے احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے۔ جس قوم کے نوٹ پیروں میں ہوں اس کی معیشت کبھی سر بلند نہیں ہوتی۔
اسی سلسلے میں ایک عام سوال یہ ہے کہ کیا نوٹوں کے ہار بنانا قانوناً جائز ہے۔ قانونی طور پر یہ جائز نہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کلین نوٹ پالیسی کے تحت جان بوجھ کر نوٹ کو خراب کرنا، اس پر لکھنا، اسٹیپل کرنا، سوئی سے چھید کر ہار بنانا یا گوند سے چپکانا جرم تصور ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک 2014 میں اس کے خلاف باقاعدہ ہدایات جاری کر چکا ہے۔ نوٹوں کا ہار بنانے میں نوٹ پھٹ جاتا ہے اور ناقابل استعمال ہو جاتا ہے، بینک ایسے نوٹ قبول کرنے سے انکار بھی کر سکتا ہے۔ بھارت، امریکہ اور برطانیہ میں کرنسی کو زیور بنا کر پہننا قابل سزا جرم ہے۔ ہمارے ہاں صرف اس لیے رواج پا گیا ہے کہ عملدرآمد نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو عزت دینی ہے تو مصنوعی پھولوں کا ہار پہنایا جائے اور رقم عزت سے لفافے میں دی جائے، یہی مہذب اور شرعی طریقہ ہے۔اس تکلیف دہ صورتحال کو بدلنے کے لیے تین سطح پر کام کرنا ہوگا۔ انتظامی سطح پر فوری قانون سازی ضروری ہے، دفعہ 123 سی کو منظور کر کے کرنسی کی بے حرمتی کو قابل دست اندازی جرم قرار دیا جائے، ڈپٹی کمشنر شادی ہالوں کے لائسنس میں شرط رکھے کہ نوٹ نچھاور کرنے پر جرمانہ اور ہال سیل کیا جائے گا، اور اسٹیٹ بینک لکھے ہوئے اور اسٹیپل شدہ نوٹوں پر جرمانے کا نظام نافذ کرے۔ عوامی سطح پر ہمیں انکار کی ہمت پیدا کرنی ہوگی، محفل میں ہی کہنا ہوگا کہ یہ قائد کی تصویر والے نوٹ ہیں انہیں پیروں میں نہ پھینکو، اور "قائد لگاؤ” جیسے جملے کو "رشوت کہو، قائد کا نام نہ لو” سے بدلنا ہوگا۔ سماجی اور تعلیمی سطح پر اسکولوں میں بچوں کو کرنسی کی عزت سکھانی ہوگی، جمعہ کے خطبوں میں اسراف کی مذمت کرنی ہوگی اور میڈیا کو نوٹ اڑانے کی ویڈیوز کو وائرل کرنے کے بجائے اس کی مذمت کرنی ہوگی۔ قومی کرنسی کی عزت دراصل قومی غیرت کی عزت ہے، اور غیرت کبھی قانون سے نہیں، ضمیر سے جاگتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button