
تعلیم یا صرف ڈگری؟…..علی عباس کاظمی
ماسٹر واجد سلطان نے اس موقع پر ایک اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے مطابق خرابی صرف نصاب میں نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ میں بھی ہے
شام ڈھلتے ہی روپوال کے معروف جی چن جی ہوٹل پر ہماری روزمرہ کی محفل سج جاتی ہے۔ یہ محفل بظاہر عام سی ہوتی ہے، چائے کے کپ، روزمرہ کی باتیں، ہنسی مذاق اور گاؤں کے حالات، مگر کبھی کبھی یہی معمولی سی نشست ایسے سوال کو جنم دے دیتی ہے جو گھر سے سکول، سکول سے کالج اور کالج سے روزگار تک پورے معاشرے کا پیچھا کرتا ہے۔ گزشتہ روز بھی گفتگو کا رخ تعلیم کی طرف مڑ گیا۔ ہمارے ساتھ گورنمنٹ سکول کے اساتذہ ماسٹر نثار اکبر، ماسٹر اعجاز جازی، ماسٹر واجدسلطان اور ماسٹر قاضی ابرار موجود تھے۔ محفل میں موجود اساتذہ تعلیم کے نظام کو قریب سے دیکھنے والے لوگ تھے، چنانچہ بات کتابوں اور نصاب سے آگے بڑھتے ہوئے ہمارے معاشرتی اور عملی مسائل تک پہنچ گئی۔
ماسٹر نثار اکبر نے گفتگو کا آغاز ایک ایسے مشاہدے سے کیا جس نے پوری بحث کا رخ متعین کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں تعلیم کو اب بھی زیادہ تر ایک ایسی سیڑھی سمجھا جاتا ہے جس کے آخری سرے پر نوکری کھڑی ہے۔ بچہ سکول جائے، نمبر حاصل کرے، ڈگری لے اور پھر ملازمت تلاش کرے۔ مگر دنیا نے اس سیڑھی کا نقشہ بدل دیا ہے۔ آج روزگار کی دنیا صرف یہ نہیں دیکھتی کہ امیدوار نے کتنے سال تعلیم حاصل کی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھتی ہے کہ وہ ان برسوں میں سیکھ کر کیا لایا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری نئی نسل پڑھ نہیں رہی، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پڑھنے اور قابل ہونے کو ایک ہی چیز سمجھ لیا ہے۔ ڈگری علم کی ضمانت ہو سکتی ہے، مگر مہارت کی نہیں۔
ماسٹر اعجاز جازی نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے نصاب کا ایک بڑا مسئلہ اس کی رفتار ہے۔ دنیا بدلنے میں برس نہیں، بعض اوقات مہینے لگتے ہیں، مگر ہمارے نصاب میں تبدیلی ایک طویل سرکاری عمل بن جاتی ہے۔ ایک بچہ ایسے وقت میں کمپیوٹر پڑھ رہا ہوتا ہے جب کمپیوٹر کی دنیا کئی نسلیں آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی صرف ایک مضمون نہیں رہی، بلکہ زندگی، کاروبار، صحافت، طب، قانون، تعلیم اور روزگار کے تقریباً ہر شعبے کا حصہ بن چکی ہے۔ ایسے میں اگر سکول بچے کو صرف معلومات یاد کرنے کا عادی بنائے گا تو وہ معلومات کا ذخیرہ تو بن سکتا ہے، بدلتی دنیا کا کارآمد فرد شاید نہ بن سکے۔
ماسٹر واجد سلطان نے اس موقع پر ایک اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے مطابق خرابی صرف نصاب میں نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ میں بھی ہے۔ گھر میں والدین بچے سے کہتے ہیں کہ اچھے نمبر لو، کیونکہ اچھے نمبر کامیابی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سکول میں استاد پر نتائج کا دباؤ ہے اور طالب علم پر امتحان کا۔ یوں تعلیم ایک ایسے چکر میں داخل ہو جاتی ہے جہاں سیکھنے سے زیادہ ثابت کرنا اہم بن جاتا ہے کہ بچے نے کتنا یاد کیا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امتحان ختم ہوتے ہی بہت سا علم بھی ذہن سے نکل جاتا ہے۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف اگلے امتحان تک یاد رکھنا ہے تو پھر ہم بچے کو زندگی کے امتحان کے لیے کس طرح تیار کر رہے ہیں؟
ماسٹر قاضی ابرار نے گفتگو کو اعلیٰ تعلیم کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف ابتدائی یا ثانوی تعلیم کا نہیں۔ بڑی بڑی ڈگریاں بھی اس وقت سوال بن جاتی ہیں جب ان کے حامل نوجوان عملی میدان میں داخل ہوتے ہیں۔ ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی، ایم بی اے، ایل ایل بی یا کسی دوسرے شعبے کی ڈگری اپنے اندر اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، مگر آج کے روزگار میں صرف سند کافی نہیں۔ ایک نوجوان اگر کاروبار پڑھتا ہے تو اسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا اور جدید کاروباری ذرائع سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ قانون پڑھنے والے کے لیے سائبر قانون اور جدید قانونی دستاویز نویسی اہم ہوتی جا رہی ہے۔ طب کا طالب علم جدید ٹیکنالوجی اور ٹیلی میڈیسن سے ناواقف نہیں رہ سکتا۔ تحقیق کرنے والے کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی تحقیق معاشرے، صنعت یا کسی عملی مسئلے سے تعلق رکھتی ہو۔
یہاں گفتگو نے ایک تلخ حقیقت کو چھوا کہ ہمارے ہاں ڈگری اکثر قابلیت سے پہلے پہنچ جاتی ہے۔ نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرتا ہے، فیسیں ادا کرتا ہے، امتحانات دیتا ہے، اسائنمنٹ مکمل کرتا ہے اور آخرکار ایک سند اس کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ گھر والے اسے کامیاب سمجھتے ہیں، رشتہ دار مبارک باد دیتے ہیں، تصویر بنائی جاتی ہے، مگر جب وہ ملازمت کے دروازے پر پہنچتا ہے تو ایک نیا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ وہاں پوچھا جاتا ہے کہ آپ کام کیا کر سکتے ہیں؟ مسئلہ کیسے حل کریں گے؟ کمپیوٹر پر کیا آتا ہے؟ ٹیم کے ساتھ کیسے کام کریں گے؟ اپنی بات مؤثر انداز میں کیسے پیش کریں گے؟ نئی صورت حال میں خود کو کیسے ڈھالیں گے؟ یہیں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ ڈگری حاصل کرنا اور کسی کام کے قابل ہونا دو الگ حقیقتیں ہیں۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے 28.4 فیصد نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ روزگار میں ہیں اور نہ کسی تربیتی سرگرمی کا حصہ ہیں، جبکہ بے روزگاری کی شرح 12.8 فیصد رپورٹ ہوئی۔ یہ اعداد صرف شماریات نہیں، ہمارے تعلیمی اور معاشی نظام کے درمیان موجود فاصلے کی ایک تصویر ہیں۔ ہر بے روزگار نوجوان کو صرف اس کی ذاتی ناکامی سمجھ لینا آسان ہے، مگر اگر ایک پوری نسل تعلیم مکمل کرنے کے باوجود مطلوبہ مواقع تک نہ پہنچ سکے تو ہمیں فرد سے پہلے نظام کو بھی دیکھنا ہوگا۔ کیا ہم نوجوان کو ایسی تعلیم دے رہے ہیں جس کی معاشی دنیا کو ضرورت ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے ان تقاضوں سے باخبر ہیں جو آج کی روزگار کی دنیا سامنے رکھ رہی ہے؟
ماسٹر نثار اکبر نے اس نکتے پر کہا کہ تعلیم کو صرف نوکری کے ساتھ باندھ دینا بھی درست نہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ تعلیم کا مقصد انسان کو محض ملازم بنانا نہیں۔ تعلیم اسے سوچنے، سوال کرنے، فیصلہ کرنے، اختلاف سننے، دلیل سمجھنے اور اپنے معاشرے کی ذمہ داری محسوس کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تعلیم انسان کو عملی زندگی کے لیے بالکل تیار نہ کرے تو اس کے اندر پیدا ہونے والا احساس محرومی بھی معاشرتی مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو انسان کو روزگار کے قابل بھی بنائے اور ذمہ دار شہری بھی۔
ماسٹر اعجاز جازی نے رٹّے کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امتحان کا طریقہ تبدیل کیے بغیر تعلیم میں بنیادی تبدیلی ممکن نہیں۔ جب بچے کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہو کہ اس نے کتاب کے کتنے صفحات یاد کیے ہیں تو وہ لازماً یاد کرنے کی طرف جائے گا۔ اگر امتحان یہ جاننے کی کوشش کرے کہ بچے نے کسی مسئلے کو کیسے سمجھا، اس کا حل کیسے تلاش کیا، اپنی رائے کی دلیل کیسے دی اور حاصل شدہ علم کو کہاں استعمال کیا تو تعلیم کا مزاج بھی بدلنے لگے گا۔ بچے کو آٹھویں جماعت کے بعد نہیں بلکہ ابتدائی سطح ہی سے ٹیکنالوجی، عملی سرگرمیوں، تخلیقی کام اور ہنر سے متعارف کرانا ہوگا۔
ماسٹر واجد سلطان نے ایک دلچسپ بات کہی کہ تعلیمی اصلاح صرف نئی ڈگریاں متعارف کرانے سے نہیں ہوگی، ہمیں تعلیم کے تصور اور مزاج میں تبدیلی لانا ہوگی۔۔ بی اے کے ساتھ کوئی عملی ڈیجیٹل ہنر کیوں نہیں، سائنس کے طالب علم کو بنیادی کوڈنگ اور ڈیٹا سے واقفیت کیوں نہ ہو، قانون کے طالب علم کو جدید قانونی ٹیکنالوجی کیوں نہ سکھائی جائے اور کاروبار پڑھنے والے کو حقیقی مارکیٹ کے مسائل سے کیوں نہ گزارا جائے؟ تعلیم اور عملی دنیا کے درمیان دیوار جتنی اونچی ہوگی، ڈگری اور روزگار کے درمیان فاصلہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔
ماسٹر قاضی ابرار نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اصلاح صرف حکومت یا سکول سے شروع نہیں ہوگی۔ والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری افسر بننے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ کسی بچے میں ہاتھ کا ہنر ہوتا ہے، کسی میں تخلیقی صلاحیت، کسی میں کاروباری ذہن، کسی میں تحقیق کا شوق اور کسی میں فن یا ٹیکنالوجی کی استعداد۔ ہم نے کامیابی کے چند روایتی راستے مقرر کر رکھے ہیں اور پھر ہر بچے کو انہی راستوں پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید تعلیم کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو اس کی اپنی صلاحیت پہچاننے میں مدد دی جائے۔
ہوٹل کی محفل آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی تھی، مگر گفتگو کا سوال ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ ہمارے والدین نے جس تعلیم کو کامیابی کا راستہ سمجھا، وہ اپنے زمانے میں شاید واقعی اسی طرح کارآمد تھی۔ مگر ہر نسل کو اپنے زمانے کی ضرورت سمجھنی پڑتی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، آن لائن کاروبار، ریموٹ ورک، نئی ٹیکنالوجی اور بدلتی ہوئی ملازمتیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ایسے میں اگر ہم بچوں کو کل کی دنیا کے لیے تیار کرتے رہے تو وہ آج کی دنیا میں کہاں کھڑے ہوں گے؟
تعلیم کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب کتاب بند ہونے کے بعد بھی انسان کے اندر سوچنے کی صلاحیت زندہ رہتی ہے۔ ڈگری دیوار پر سج سکتی ہے، مگر ہنر ہاتھ میں، شعور ذہن میں اور کردار انسان کے عمل میں دکھائی دیتا ہے۔ شاید ہمیں اپنے بچوں سے یہ پوچھنے سے پہلے کہ تم نے کتنے نمبر لیے ہیں، یہ پوچھنا چاہیے کہ تم نے اس دوران ایسا کیا سیکھا جو تمہیں بدل بھی سکے اور دنیا میں کچھ بدلنے کے قابل بھی بنا سکے۔ کیونکہ آنے والا زمانہ صرف سند رکھنے والوں کا نہیں ہوگا، وہ ان لوگوں کا ہوگا جو علم کو عمل، ہنر کو کردار اور تعلیم کو زندگی سے جوڑ سکیں گے۔ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔۔۔ اور شاید اس بار امتحان بچوں کا نہیں۔۔۔ہمارا ہے۔



