علی عباس کاظمیکالمز

مطالعہ نہیں تو شعور نہیں…..علی عباس کاظمی

کتاب سے دوری کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان دوسروں کے نعروں، جذباتی تقریروں اور مقبول رجحانات کا آسان شکار بن جاتا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ہماری بدقسمتی یہ نہیں کہ ہمارے پاس پڑھنے کے ذرائع کم ہیں، بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہم نے سوچنے کی زحمت چھوڑ دی ہے۔ موبائل کی ایک اسکرین پر دنیا بھر کی معلومات موجود ہیں، مگر سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ رہی ہے۔ ہم خبریں پڑھتے ہیں، تبصرے سنتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن اپنے ذہن کو استعمال کرنے کے بجائے دوسروں کی رائے کو اپنا فیصلہ بنا لیتے ہیں۔ آخر معلومات کی اتنی فراوانی کے باوجود ہماری سوچ میں وسعت کیوں پیدا نہیں ہو رہی؟ شاید اس لیے کہ ہم نے جاننے کو سمجھنے اور دیکھنے کو پرکھنے کے برابر سمجھ لیا ہے۔کتاب انسان کو صرف علم نہیں دیتی، اسے اپنے خیالات پر نظرثانی کرنا بھی سکھاتی ہے۔ یہ اس کے سامنے ایسے سوال رکھتی ہے جو اس کے پختہ یقین کو ہلا سکتے ہیں۔ مگر ہمارا معاشرہ سوال کرنے والے سے زیادہ ہر بات پر سر ہلانے والے کو پسند کرتا ہے۔ گھر میں بچے کی جستجو کو نافرمانی، درس گاہ میں اختلاف کو بدتمیزی اور معاشرے میں تنقیدی سوچ کو مخالفت سمجھ لیا جاتا ہے۔ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ نئی نسل آزادانہ سوچ کیوں نہیں رکھتی۔ جب ہم سوال کا راستہ خود بند کریں گے تو ذہنوں میں شعور کیسے پیدا ہو گا؟
کتاب سے دوری کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان دوسروں کے نعروں، جذباتی تقریروں اور مقبول رجحانات کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ وہ کسی خبر کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے پھیلا دیتا ہے، کسی شخص کی مخالفت میں دلیل کے بجائے الزام کو کافی سمجھتا ہے اور اپنی پسند کے مؤقف کے خلاف حقیقت سامنے آنے پر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہ محض معلومات کی کمی نہیں، ذہنی تربیت کی کمزوری ہے۔ مطالعہ انسان کو ٹھہر کر سوچنے، دلیل کا جائزہ لینے اور اپنی رائے کو حتمی سچ سمجھنے سے بچاتا ہے۔ہمارے تعلیمی نظام نے بھی مطالعے کو زندہ تجربے کے بجائے امتحان کی تیاری بنا دیا ہے۔ طالب علم کتاب پڑھتا ہے تاکہ نمبر لے سکے، سبق یاد کرتا ہے تاکہ جواب لکھ سکے، مگر یہ کم ہی سیکھ پاتا ہے کہ حاصل کردہ علم کو زندگی کے مسائل پر کیسے لاگو کرنا ہے۔ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، لیکن اگر تعلیم یافتہ انسان بھی جھوٹ، تعصب، ناانصافی اور عدم برداشت سے نجات حاصل نہیں کر پا رہا تو ہمیں اپنے تعلیمی معیار پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ تعلیم کی کامیابی صرف ملازمت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ بہتر فیصلہ کرنے، اپنی غلطی تسلیم کرنے اور دوسروں کے حقوق سمجھنے میں بھی ظاہر ہونی چاہیے۔
والدین بچوں کو مطالعے کی نصیحت کرتے ہیں، لیکن خود گھنٹوں موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ گھروں میں مہنگے آلات کے لیے جگہ ہے، مگر کتابوں کے لیے وقت نہیں۔ بچوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پڑھنے کے شوقین بنیں، لیکن انہیں کتابوں سے دوستی کا عملی نمونہ کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ مطالعے کی عادت حکم دینے سے نہیں، ماحول بنانے سے پیدا ہوتی ہے۔ والدین خود پڑھیں، بچوں کو اپنی پسند کی کتابیں منتخب کرنے دیں اور ان کے سوالات کا مذاق اڑانے کے بجائے ان پر گفتگو کریں۔ ذہین نسل پیدا کرنے کے لیے صرف اچھی درس گاہ نہیں، سوچنے والا گھر بھی ضروری ہے۔ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہم کامیابی کو دولت، عہدے اور شہرت سے ناپتے ہیں۔ کتاب پڑھنے میں وقت لگتا ہے، اس کے نتائج فوری دکھائی نہیں دیتے، اس لیے اسے اکثر غیر ضروری مشغلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن جس معاشرے میں انسان کی قدر اس کے کردار کے بجائے اس کی حیثیت سے طے ہو، وہاں مطالعے کی اہمیت کون سمجھے گا؟ مطالعے کی اصل کامیابی تب ہے جب وہ انسان کے رویے کو بہتر بنائے، نہ کہ اسے دوسروں سے برتر ہونے کا احساس دلائے۔یہ سمجھنا بھی غلط ہے کہ کتاب پڑھنے والا ہر شخص لازماً دانش مند ہو جاتا ہے۔ کتابیں پڑھ کر بھی انسان متعصب رہ سکتا ہے، علم حاصل کرکے بھی خود غرضی کا شکار ہو سکتا ہے۔ مطالعہ تب فائدہ دیتا ہے جب قاری پڑھی ہوئی بات کو اپنی زندگی کے آئینے میں دیکھنے کی ہمت رکھتا ہو۔ اگر ہم انصاف پر کتاب پڑھیں اور اپنے مفاد کے لیے ناانصافی کریں، برداشت کا درس لیں اور اختلاف پر بھڑک اٹھیں تو مسئلہ کتاب میں نہیں، ہمارے رویے میں ہے۔ علم کا امتحان اس بات سے نہیں ہوتا کہ ہم نے کتنا پڑھا، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ پڑھنے کے بعد ہمارے اندر کیا بدلا۔
مطالعے کے فروغ کے لیے محض کتابوں کی تعریف کافی نہیں۔ اسکولوں میں لائبریریاں فعال بنانا، اچھی کتابوں کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا، بچوں میں آزادانہ مطالعے کی حوصلہ افزائی کرنا اور گھروں میں کتاب کے لیے روزانہ وقت نکالنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اسے علم تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن مختصر ویڈیوز اور فوری معلومات کو گہرے مطالعے کا متبادل سمجھنا خود فریبی ہے۔ ہر چیز فوراً جان لینے کی خواہش نے ہمیں ٹھہر کر سمجھنے سے دور کر دیا ہے۔معاشرے کی اصلاح صرف دوسروں کو نصیحت کرنے سے نہیں ہو گی۔ اس کے لیے ہر شخص کو اپنی ذہنی عادتوں کا جائزہ لینا ہو گا۔ ہم جو کچھ سنتے ہیں، کیا اسے پرکھتے بھی ہیں؟ جس رائے کا دفاع کرتے ہیں، کیا اس کی دلیل جانتے ہیں؟ اور جس بات سے اختلاف کرتے ہیں، کیا اسے سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں؟ کتاب ان سوالوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر کتاب ہماری سوچ بدل دے، لیکن مطالعے سے دور رہ کر ہم اپنی سوچ کی حدود سے واقف ہونے کا موقع بھی کھو دیتے ہیں۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف معلومات جمع نہ کرے، بلکہ سوال اٹھائے، دلیل سمجھے، اختلاف برداشت کرے اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرے۔ کیونکہ کتاب سے خالی ذہن صرف علم سے محروم نہیں ہوتا، وہ دوسروں کے خیالات کا اسیر بننے کا خطرہ بھی مول لیتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button