اداریہ

یکم مئی یوم مزدور …….منزہ جاوید

یا اس ماں کی چھٹی ہے جو اپنے بچوں کو بے سہارا گھر چھوڑ کر لوگوں کے گھر کام کرنے نکل پڑتی ہے کہ کام کرنے کے ساتھ ہو سکتا ہے کسی کے گھر سے کچھ کھانا مل جائے گا؟

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

کہتے ہیں آج یوم مزور ہے آج مزدورں کی چھٹی کا دن منایا جاتا ہے لیکن کوئ یہ نہیں بتاتا کس مزدور کی چھٹی ہے کیا اس باپ کی جو روزانہ اس امید پے گھر ڈے نکلتا ہے کہ آج دیہاڑی اچھی لگے گی تو میرے ںچوں کے کھانا کھانے کے بعد کچھ پیسے بچ جائیں گے جو اس کی فیس کے کام آئیں گے یا اس مزدور کی چھٹی ہے جو ریڑی لگاتا ہے سارا دن اس امید پے پھل سبزی بیچتا ہے یہ بک جائے تو گھر کا نظام چلے گا
یا اس مزدور کی چھٹی ہے؟ جو اپنے ہاتھوں سے پعتھر اینٹیں توڑنے کا کام کرتا ہے
یا اس مزدور کی جو اپنی کمر اور سر پر وزن اٹھائے دوسری تیسری منزل پر سامان پہنچاتا ہے ؟
یا اس ماں کی چھٹی ہے جو اپنے بچوں کو بے سہارا گھر چھوڑ کر لوگوں کے گھر کام کرنے نکل پڑتی ہے کہ کام کرنے کے ساتھ ہو سکتا ہے کسی کے گھر سے کچھ کھانا مل جائے گا؟
چلو مان لیا چھٹی ہے مزدور چھٹی کریں گے تو سوچا ہے یہ چھٹی ان کے لیے کیا کیا مشکلیں کھڑی کرے گی ایک دن کے کھانے کا انتظام کہاں سے ہو گا وہ محنت کش جو کچھ مزدوری کے چکر میں تھکتا نہیں اسے ایک دن کچھ آمدن نہ ہونے کی تکلیف پرشانی تھکا دیے گی ۔
اگر مزودر کی چھٹی ہے ان سے ہمدردی ہے تو ایسا کیجیے اس دن کوئ ان مزدوروں کے لیے کسی پیکج کا اعلان کر دیجیئے ۔
کہ ان کی بیماری کی صورت میں علاج فری ہے ان بچے سکولوں میں فری پڑہ سکتے ہیں ان کو کتابیں کپڑے فری ملیں گے یا جتنے بچے ہیں ان کے کوئ وظیفے مقرر کر دیے جائیں۔
ایک دن کی چھٹی کیوں ؟
اس کا کیا فائدہ ہے ؟
کیا اس دن فری کھانا ان کے گھروں میں بھیجا جاتا ہے یا سب مزدوروں کو اس دن کوئ انعام کی شکل میں رقم تحفہ دی جاتی ہے
مجھے تو اس دن کی چھٹی کی کوئ منطق سمجھ نہیں آتی
ہاں غربت سے مارے اور مر جاتے ہیں جب دن دیہاڑی نہیں لگتی
کیا کسی کو ان کی بھوک کا اندازہ نہیں ہوتا کیا مزدور کی بےبسی نظر نہیں آتی کیا ان کی آنکھوں میں تیرتے آنسو ان کے سینے کی گھٹںن
کچھ محسوس نہیں ہوتا
اگر محسوس کچھ نہیں ہوتا تو چھٹی بھی بند کر دیں یہ چھٹی عزاب ہے غریبوں کے لیے ۔
اگر دنیا کو دیکھانے اور دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے کے لیے چھٹی کرنی ہے تو جیسے دوسرے ملکوں میں مزدور کو جینے کے حقوق ہیں وہ بھی دیجیئے ۔
مزدور کی مزدوری جہاں پوری نہیں ملتی وہاں یوم مزدور کیوں منایا جاتا ہے کیا غریب پر ہنسنے کے لیے افسر لوگ تو اس دن مزے اڑانے کے لیے شکر کرتے ہیں چھٹی ملی مزدور کو بھی بتا دیں وہ کیا کرے کیا خالی جیب پر خوشیاں منائے کیا خالی ہانڈی پر یا مہنگے آٹے پر
کس چیز پر پرسکون ہو کر چھٹی پر خوشی منائے
جیسے مزدور کو اسکی محنت کی پوری مزدوری نہیں ملتی ایسے ہی والدین کو بھی ان کی دن رات کی آپنے کی مزدوری نہیں ملتی ساری زندگی اولاد کی خوشی خریدتے خریدتے اپنے خواب بیچتے والدین کو آخری عمر میں اولاد اکیلا چھوڑ دیتی ہے ۔اور وہ خالی گھر دیکھتے پچھلی عمر کو یاد کرتے روتے ہیں
ان کے اخری ایام یا اکلاپے میں گزرتے ہیں یا کسی سڑ کنارے لاوارث لاش میں یا کسی ولڈ ہاوس وغیرہ میں
سب سے بہتر جو مزدور کی مزدوری پوری پوری اور بعض مرتبہ وظیفے کے ساتھ دہتا ہے تو وہ الله تعالی ہے
جو ہمیں ہماری مزدوری کا بہتر بدلہ دیتا ہے اور سب سے اچھی مزدوری عبادت کرنا اور حقوق العباد ادا کرنا ہے
حقوق العباد ہمیں سکھاتا ہے انسانوں کی قدر کیسے کرنی ہے انسانوں کی مدد کیسے کرنی ہے اور حقوقِ العباد کی تو معافی اللہ تعالی بھی نہیں کرتا تو جس نے اپنی دنیا اور آخرت بچانی ہے کچھ آخرت کے لیے کمائ کرنی ہے تو آج کے زندہ روتے انسان کو زندگی بخشیں خدا کے لیے مزودروں سے اتنا کام لیں جتنی اجرت دینی مقرر کی ہے ان سے کام مزدوری لیتے ہی اس کا حق پورا پورا ادا کیجیے اس کی اجرت میں کمی نہ کیجیئے بلکہ ہو سکے تو کچھ زیادہ ہی دیے دیجیئے کیونکہ اس کو مزدوری کا ہی ملتا ہے اس کی اور کوئی امدن نہیں یوم مئی ہمیں رحم کرنا سیکھاتا ہے مزدورں اور محنت کشوں سے محبت اور ان کا احساس کرنا سیکھاتا ہے یہ دن سونے کے لیے نہیں بلکہ اپنے ضمیر کو جگانے کا دن بھی بن سکتا ہے سگر مزدور کے لیے کچھ اچھا کریں تو

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button