پاکستاناہم خبریں

کوہاٹ پولیس ہیڈکوارٹرز حملہ: 31 افراد جاں بحق، 16 پولیس اہلکار شامل؛ 100 سے زائد زخمی

پرانی پولیس لائنز میں خودکش دھماکے کے بعد مسلح حملہ، تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والے کلیئرنس آپریشن میں 8 حملہ آور ہلاک؛ سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
کاشف ندیم-ادارت

کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے پولیس کمپلیکس پر ہونے والے بم دھماکے اور مسلح حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 31 ہو گئی ہے، جن میں 16 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سینئر پولیس حکام کے مطابق حملے کے بعد پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والا کلیئرنس آپریشن مکمل کیا، جس میں مجموعی طور پر 8 حملہ آور ہلاک کیے گئے۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے جمعے کی دوپہر کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز میں قائم پولیس کمپلیکس کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی حملے میں ایک دھماکا ہوا، جس کے بعد مسلح افراد نے کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش کی اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

حملہ پولیس کمپلیکس کی مسجد کے قریب ہوا

پولیس حکام کے مطابق حملے کا آغاز اولڈ پولیس لائنز کمپلیکس میں واقع مسجد کے قریب دھماکے سے ہوا۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ ایک بارودی مواد سے بھری گاڑی کو پولیس کمپلیکس کی حدود یا داخلی حصے کی جانب لایا گیا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا اور عمارت کے ایک حصے کو نقصان پہنچا۔

دھماکے کے بعد متعدد مسلح حملہ آوروں نے کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر جوابی کارروائی شروع کی اور حملہ آوروں کو مختلف حصوں میں گھیر لیا۔

رائٹرز کے مطابق ابتدائی مرحلے میں حملہ آوروں کی تعداد اور واقعے کی تفصیلات مختلف بتائی گئی تھیں، تاہم بعد میں خیبر پختونخوا پولیس نے مجموعی طور پر آٹھ حملہ آوروں کے مارے جانے کی تصدیق کی۔

ہلاکتوں میں پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد

حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 16 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

ضلع ہیلتھ حکام کے مطابق زخمیوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے اور متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

حملے کے ابتدائی گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی گئی تھی، تاہم ملبے سے لاشیں نکالے جانے اور شدید زخمی افراد کے دم توڑنے کے بعد مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا۔

مقامی صحت حکام کے مطابق زخمیوں کو کوہاٹ کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

پولیس اور سکیورٹی فورسز کا بھرپور جوابی آپریشن

خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق حملے کے فوراً بعد پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور سکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر کارروائی شروع کی۔

آپریشن کی قیادت اعلیٰ پولیس افسران نے کی جبکہ متعلقہ سکیورٹی حکام بھی موقع پر موجود رہے۔

حکام کے مطابق کمپلیکس کے مختلف حصوں کو مرحلہ وار کلیئر کیا گیا اور حملہ آوروں کو ایک ایک کرکے نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے اختتام پر کمپلیکس کو مکمل طور پر کلیئر قرار دیا گیا اور مجموعی طور پر آٹھ حملہ آوروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔

آئی جی خیبر پختونخوا: حملہ ناکام بنا دیا گیا

خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ذوالفقار حمید کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔

ان کے مطابق پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز نے انتہائی مشکل حالات میں کارروائی کی اور حملہ آوروں کو کمپلیکس میں مزید پیش قدمی سے روک دیا۔

آئی جی پولیس نے حملے میں جانیں گنوانے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے شہریوں اور اپنے ساتھیوں کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

کمپلیکس میں سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے دفاتر بھی موجود

کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز محض ایک پولیس چوکی یا تھانہ نہیں بلکہ ضلع کی سطح کا اہم پولیس کمپلیکس ہے۔

یہاں پولیس کے مختلف اہم یونٹس کے دفاتر موجود ہیں، جن میں محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD)، اسپیشل برانچ اور دیگر پولیس یونٹس شامل ہیں۔

اسی وجہ سے اس کمپلیکس کو نشانہ بنانا سکیورٹی کے اعتبار سے ایک اہم واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق کوہاٹ تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار آبادی والا شہر ہے اور یہ کمپلیکس ضلع کی سطح پر پولیس کی اہم سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

21 گھنٹے تک جاری رہنے والا آپریشن

خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق حملے کے بعد کلیئرنس آپریشن تقریباً 21 گھنٹے جاری رہا۔

حکام کو خدشہ تھا کہ کچھ حملہ آور کمپلیکس کی عمارتوں میں چھپے ہوئے ہوسکتے ہیں، اس لیے سکیورٹی فورسز نے مختلف عمارتوں، دفاتر اور حصوں کو مرحلہ وار چیک کیا۔

اس دوران سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

پولیس کے مطابق آخری حملہ آوروں کو بھی کارروائی کے دوران ہلاک کردیا گیا اور اس کے بعد پورے کمپلیکس کو کلیئر کرلیا گیا۔

دھماکے سے عمارتوں کو شدید نقصان

حملے کے نتیجے میں پولیس کمپلیکس کی متعدد عمارتوں اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔

اے ایف پی کی تصاویر میں دھماکے کے بعد کمپلیکس کے اندر ملبہ، اینٹوں کے ڈھیر اور تباہ شدہ دیواریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

سکیورٹی اہلکار خودکار ہتھیاروں کے ساتھ کمپلیکس کے مختلف حصوں میں تعینات رہے جبکہ پولیس لائنز کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔

حملے کے بعد امدادی سرگرمیوں کے لیے ایمبولینسز کی بڑی تعداد بھی موقع پر موجود رہی۔

زخمیوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار

ضلع ہیلتھ حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 100 سے زائد افراد میں بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے۔

کئی زخمیوں کو فوری طبی امداد کے بعد دیگر طبی مراکز منتقل کیا گیا، جبکہ بعض شدید زخمیوں کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا۔

حکام کے مطابق زخمیوں کی تعداد میں مزید تبدیلی ممکن ہے کیونکہ حملے کے مقام سے ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد جانی نقصان کا حتمی جائزہ لیا جا رہا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد افراد کی حالت تشویش ناک بھی بتائی گئی تھی۔

حملے کی ذمہ داری سے متعلق مختلف دعوے

حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے ابتدائی رپورٹس میں ایک گروپ کا نام سامنے آیا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق حافظ گل بہادر کی قیادت سے منسلک اتحاد المجاہدین نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

تاہم ایسے دعووں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی، اس لیے ذمہ داری کے دعوے کو اسی نسبت سے بیان کرنا ضروری ہے۔

رائٹرز کی ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ حملے کے فوری بعد کسی گروپ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں تھی، جبکہ بعد کی پاکستانی رپورٹس میں ذمہ داری کا دعویٰ سامنے آیا۔

افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کا معاملہ

پاکستان طویل عرصے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کے حوالے سے افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔

پاکستانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ بعض عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت پاکستانی الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

کوہاٹ کا تازہ حملہ ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور سرحد پار عسکریت پسندوں کے معاملے کو نمایاں کر رہا ہے۔

ٹی ٹی پی کا معاملہ اور خطے کی سکیورٹی

خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر عسکریت پسند گروہوں سے منسلک حملوں میں اضافہ پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج رہا ہے۔

پولیس، فوج، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے حملوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور کلیئرنس کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

تاہم کوہاٹ پولیس کمپلیکس پر براہ راست حملہ اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ اس میں ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایک ہی جگہ پر پولیس کے کئی اہم یونٹس موجود ہیں۔

پولیس اہلکاروں کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوشش

حملے کے طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اہلکار اور پولیس کا انفراسٹرکچر حملہ آوروں کے بنیادی اہداف میں شامل تھا۔

دھماکے کے بعد کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش اور مختلف پولیس یونٹس کی عمارتوں کی جانب پیش قدمی نے سکیورٹی فورسز کو فوری جوابی کارروائی پر مجبور کیا۔

پولیس حکام کے مطابق اہلکاروں نے حملہ آوروں کو مزید اندر جانے سے روکا اور طویل آپریشن کے بعد تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔

اس کارروائی کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار بھی جانی نقصان کا شکار ہوئے۔

امدادی کارروائیاں اور ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال

دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں درجنوں زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ امدادی کارکنوں نے ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش بھی کی۔

دھماکے سے متاثرہ عمارتوں کے حصوں میں امدادی کارروائیوں کے دوران سکیورٹی کلیئرنس بھی ضروری تھی تاکہ ریسکیو اہلکاروں کو کسی مزید خطرے کا سامنا نہ ہو۔

اس کے باعث ریسکیو اور سکیورٹی آپریشن بیک وقت جاری رہا۔

کوہاٹ میں سکیورٹی مزید سخت

حملے کے بعد کوہاٹ شہر میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

پولیس کمپلیکس اور اس کے اطراف کے علاقوں میں اضافی اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ اہم سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات کی سکیورٹی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

سکیورٹی حکام کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر سرچ اور انٹیلی جنس سرگرمیاں بڑھائے جانے کا امکان ہے۔

سیاسی و حکومتی سطح پر مذمت

کوہاٹ حملے پر پاکستان کی سیاسی اور حکومتی قیادت کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔

حکام نے جاں بحق پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

حکومتی سطح پر اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

خطے میں بڑھتا ہوا سکیورٹی دباؤ

کوہاٹ کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کو متعدد عسکریت پسند حملوں کا سامنا رہا ہے۔

صوبے میں پولیس اور سکیورٹی ادارے ایک طرف دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے پولیس، فوج، سرکاری تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

کوہاٹ پولیس کمپلیکس پر حملہ اس وسیع تر سکیورٹی چیلنج کی ایک سنگین مثال ہے۔

تحقیقات کا اگلا مرحلہ

حملے کے بعد اب سکیورٹی اداروں کی توجہ واقعے کی مکمل تحقیقات، حملہ آوروں کی شناخت، سہولت کاروں کا سراغ لگانے اور حملے کے لیے استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد اور ہتھیاروں کے ذرائع معلوم کرنے پر مرکوز ہوگی۔

تفتیش کار یہ بھی جائزہ لیں گے کہ حملہ آور پولیس کمپلیکس تک کیسے پہنچے، سکیورٹی حصار میں کس مقام سے داخل ہونے کی کوشش کی اور آیا انہیں اندر یا باہر سے کسی قسم کی معاونت حاصل تھی۔

حملے کی ذمہ داری کے دعوے کی بھی تحقیقات کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا بھاری جانی نقصان

کوہاٹ حملے میں 16 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس مسلسل براہ راست محاذ پر موجود ہے۔

پولیس اہلکار نہ صرف دہشت گرد حملوں کے بعد کارروائی کرتے ہیں بلکہ حساس مقامات کی حفاظت، انٹیلی جنس آپریشنز اور شہری علاقوں میں انسداد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کوہاٹ واقعے میں بھی پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کے خلاف طویل کارروائی کی اور بالآخر کمپلیکس کو کلیئر کرلیا۔

حملے کا مجموعی منظرنامہ

کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز پر ہونے والا حملہ ایک دھماکے سے شروع ہوا، جس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے پولیس کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

تازہ ترین دستیاب معلومات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 31 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 16 پولیس اہلکار شامل ہیں، جبکہ تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے کلیئرنس آپریشن میں آٹھ حملہ آور ہلاک کیے گئے۔

واقعے نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے، پولیس اور حساس سرکاری تنصیبات کے تحفظ، سرحد پار عسکریت پسند نیٹ ورکس کے مسئلے اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کو نمایاں کردیا ہے۔

اب تحقیقات میں یہ تعین کرنا اہم ہوگا کہ حملہ آوروں نے منصوبہ بندی کیسے کی، انہیں کس نوعیت کی معاونت حاصل تھی اور مستقبل میں پولیس ہیڈکوارٹرز اور دیگر حساس تنصیبات کو ایسے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سکیورٹی انتظامات میں کیا تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button