کالمزناصف اعوان

جو تم چاہتے ہو ‘وہ نہیں ہو گا !…….ناصف اعوان

اب ایسا کرنا خاصا مشکل ہے ایک سخت مزاحمت سر اٹھا رہی ہے اور اس مزاحمت کے پیچھے ان جیسی قوتیں ہیں جو کسی دوسرے ملک کی آزادی سلب نہیں کرتیں

طاقتور کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ اس کے مد مقابل کوئی دوسرا طاقتور موجود نہ ہو کیونکہ اس کی موجودگی میں اس کا رعب و دبدبہ اور اثر و رسوخ کم یا پھر ختم ہو جاتا ہے مگر اسے یہ کیوں علم نہیں ہوتا کہ بقول خلیل جبران ”ہر بیج میں شوق نمو ہے “ یعنی کسی دوسرے کی بھی اس کی طرح کی خواہش ہو سکتی ہے لہذا اگر وہ طاقتور بننے کی کوشش کرتا ہے تو اس پریشان و حیران ہونے کے بجائے سوچنا چاہیے دوسرے لفظوں میں اس کو مزید طاقت کے حصول کے لئے سوچ بچار کرنی چاہیے مگر سوال یہ ہے کہ یہ طاقت دوسروں کو دبانے جھکانے اور زیر نگیں رکھنے کے لئے کیوں ضروری ہے ۔اج کے طاقتور مگر ترقی یافتہ انسان کو جو تہذیب و تمدن میں عروج پر پہنچنے کا دعویدار ہے ایسا سوچنا زیب نہیں دیتا اسے تو دماغی قوت کے ذریعے ہی ہر مسلہ کا حل تلاش کرنا چاہیے مگر اگر وہ بازوؤں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرتا ہے تو پھر لازمی اس کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ مزاحمت کار کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے یا ہونا چاہیے ۔
اس طویل تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کل امریکا جو خود کو طاقتور ترین سمجھ رہا ہے پوری دنیا کو اپنے مطابق چلانا چاہتا ہے۔ اس کی معیشت کی ترقی کا فیصلہ بھی وہ اپنے انداز سے کرنے کی خواہش رکھتا ہے ۔ یوں وہ اربوں انسانوں کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا کر رکھنے کا آرزومند ہے مگر یہ اکیسویں صدی ہے جس میں شعور و آگہی کے چراغ جلنا شروع ہو چکے ہیں ۔ قوموں کو معلوم ہو چکا ہے کہ کون کیا ہے اور کون ہے جو ان کی ذہنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے بجائے ان کو روک دینا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب جب ایران پر اس نے جارحیت کا ارتکاب کیا ہے تو مہذب معاشرے اس کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ امریکا کا اقدام جائز نہیں کسی بھی ملک کی خود مختاری ازادی اور سالمیت پر حملہ غیر قانونی ہے اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک ایسے ملک کو نیست و نابود کرنے دوڑ پڑے جو اپنے دفاع کے ہے سامان حرب و ضرب کا حصول ضروری سمجھتا ہو ۔
مگر حیرت ہے کہ امریکا اور اس کا بغل بچہ اسرائیل دونوں اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور وہ اپنی اسلحی ترقی پر نازاں ہیں وہ شاید اسے ہی تہذیب و شائستگی تصور کرتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے ۔وہ دور بیت چکا جب جدید اسلحے کے بل بوتے پر وہ جس کو چاہتے دبا لیتے تھے اس کی معیشت کو کمزور کر لیتے تھے اس کی قدرتی دولت کو سمیٹ کر اپنے ملکوں میں لے جاتے ۔ اب ایسا کرنا خاصا مشکل ہے ایک سخت مزاحمت سر اٹھا رہی ہے اور اس مزاحمت کے پیچھے ان جیسی قوتیں ہیں جو کسی دوسرے ملک کی آزادی سلب نہیں کرتیں بلکہ اس کی نگہبانی کرتی ہیں اس کو ہر طرح سے توانا بنانے کی کوشش کرتی ہیں لہذا دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران کی مزاحمت جاری ہے اگر چہ اس کا بے حد و حساب نقصان ہو چکا ہے آگے بھی ہونے کا امکان ہے مگر وہ ہار نہیں مان رہا اور برابر اسرائیل اور امریکی مفادات و سہولت کاروں پر وار کر رہا ہے ۔ ہر نئے دن وہ جدید سے جدید ہتھیار استعمال کر رہا ہے ۔ اس کی میزائل ٹیکنالوجی جسے حملہ آوروں نے معمولی جانا تھا ان پر قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے ۔ آبنائے ہرمز پر ایران کو برتری حاصل ہے دوسری طرف بحر احمر کو بھی یمن کے ذریعے قابو میں کر سکتا ہے اور تیل گیس کا شدید ترین بحران پیدا کر سکتا ہے لہذا دونوں ملک امریکا اور اسرائیل اپنے ذہن سے یہ خیال نکال دیں کہ وہ ایران پر غلبہ حاصل کر لیں گے اس نے جتنا نقصان اٹھانا تھا ‘ اٹھا لیا مزید بھی اٹھانے کو تیار ہے مگر جو تباہی اسرائیل اور امریکا کی ہو رہی ہے اور ہونے والی ہے وہ بہہت ہو سکتی ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ فریقین ہوش کے ناخن لیں ۔ جو لوگ اس جنگ کو بڑھاوا دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی تپش کو تھوڑا بہت وہ بھی محسوس کریں گے ۔ رہی بات ایٹم بم کی کہ امریکا اپنی شکست کوسامنے دیکھتے ہوئے اسے ایران پر گرا دے گا تو اس کو کوئی بتا سمجھا دے کہ جب وہ ایسا کرے گا تو اسے ( ایران ) حیران کُن مناظر ابھار سکتا ہے لہذا جزباتی ہو کر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔
یہ دنیا اب کسی بھی اذیت ناک صورت حال سے دوچار ہونے کی پوزیشن میں نہیں وہ تو چاہتی ہے کہ امن ہو خوشحالی ہو ایک دوسرے کا احترام ہو اور زندگی کسی بہتے چشمے کی طرح نظر آئے ۔ سمجھ نہیں آرہی کہ آج کے ”باشعور“ انسانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ سینہ زوری پر اتر آئے ہیں جبکہ شکست تو میز ر بھی دی جا سکتی ہے ویسے بھی کسی بھی لڑائی کے بعد میز پر ر ہی آنا پڑتا ہے لہذا کیوں نہ جنگ و جدل کے بغیر مسائل حل کر لئے جائیں ۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ ایران کوجو دھمکیاں دے رہے ہیں ان کا اس پر ذرا بھر بھی اثر نہیں ہو رہا اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمھیں بھی لے ڈوبیں گے اور اگر واقعی ایران نے دُور مار میزائل بنا لئے ہیں تو پھر امریکا کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ وہاں کے عوام کو اپنے صدر پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ جنگ بند کرنے کی طرف آئیں مزاکرات کریں اور اپنے مسائل حل کریں ۔ یہ جو ان کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے جس سے انہیں خطرہ ہے اس اندیشہ ہائے دُور دراز کو بیٹھ کر بھی دیکھا جا سکتا ہے اور اگر ایران پر ایٹم بم گرا دیا گیا تو پھر کس قدر بربادی ہو گی اس کا اندازہ چشم تصور سے کیا جا سکتا ہے لہذا تمام ممالک اس جنگ کو روکنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ جنگ محدود نہیں رہے گی دُور دُور تک جائے گی یعنی عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی ابھی تو جنگ عظیم دوم کے زخم نہیں بھر رہے کیا ملا اس جنگ سے کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے جو مالی نقصان ہوا اس کا تو اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ بات سوچنے کی ہے کہ امریکا نے جاپان پر ایٹم بم مارے وقتی طور سے تو اسے تسکین ملی مگر کیا جاپان کی معیشت لولی لنگری رہی کیا وہ قرضہ لے کر معاملات حیات چلاتا آیا ہے ایسا نہیں وہ اپنی محنت کوشش اور ہمت سے آگے بڑھا اور آج ایک امیر ترین ملک ہے اور ترقی کی منازل طے کرتا چلا جا رہا ہے تو ہھر اس جنگ سے کیا حاصل لہذا امریکا کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے اور فاختہ کو امن کا گیت گانے سے نہیں روکنا چاہیے !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button