کالمزسید عاطف ندیم

توانائی کا بحران بمقابلہ جدید ٹیکنالوجی: پاکستان اور جرمنی سے ملنے والے اسباق…….سید عاطف ندیم

درآمدی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت مسلسل بڑھتی رہتی ہے

اکیسویں صدی میں کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی، صنعتی پیداوار، ڈیجیٹل معیشت اور عوام کے معیارِ زندگی کا دارومدار ایک مستحکم، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کے نظام پر ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں نے توانائی کو صرف بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کا اہم ستون بنا لیا ہے۔ اگر اسی تناظر میں پاکستان اور جرمنی کے توانائی کے شعبوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فرق صرف وسائل یا دولت کا نہیں بلکہ وژن، منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، انتظامی صلاحیت اور پالیسیوں کے تسلسل کا بھی ہے۔
جرمنی دنیا کی بڑی صنعتی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں توانائی کے شعبے میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انقلابی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ جرمن حکومت نے روایتی ایندھن پر انحصار کم کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کو قومی ترجیح بنایا۔ آج جرمنی کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دو لاکھ بائیس ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ملک اپنی بجلی کا ایک بڑا حصہ شمسی توانائی، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی، بائیو ماس اور دیگر ماحول دوست ذرائع سے حاصل کر رہا ہے۔ کئی مواقع پر جرمنی اپنی نصف سے زیادہ بجلی صرف قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے میں کامیاب رہتا ہے، جو اس کی طویل المدتی منصوبہ بندی اور جدید انفراسٹرکچر کا ثبوت ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً انچاس ہزار میگاواٹ کے قریب ہے، لیکن عملی طور پر اس پوری صلاحیت سے فائدہ حاصل نہیں کیا جا رہا۔ ایک طرف ملک میں سورج کی روشنی وافر مقدار میں موجود ہے، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات ہیں اور پن بجلی کے بھی بڑے وسائل دستیاب ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان کا انحصار اب بھی مہنگے تھرمل پاور پلانٹس پر قائم ہے۔ درآمدی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت مسلسل بڑھتی رہتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین اور قومی معیشت دونوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں توانائی کے بحران کی ایک بڑی وجہ قدرتی گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مقامی گیس کی پیداوار کم ہونے کے باعث حکومت کو بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرنا پڑی۔ اگرچہ ایل این جی فرنس آئل کے مقابلے میں نسبتاً صاف اور زیادہ مؤثر ایندھن سمجھا جاتا ہے، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے سنگین مالی چیلنج بن جاتا ہے۔ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل این جی مہنگی ہوتی ہے تو بجلی کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے اور حکومت کو بھاری سبسڈی دینا پڑتی ہے یا پھر صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا پڑتا ہے۔
دوسری جانب جرمنی نے گزشتہ برسوں میں اپنے توانائی کے نظام کو اس انداز سے تشکیل دیا ہے کہ مہنگے اور آلودگی پھیلانے والے ذرائع پر انحصار بتدریج کم کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ یورپ کو روس یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جرمنی نے تیزی سے متبادل ذرائع اختیار کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت اور جدید اسٹوریج ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری بڑھا دی۔ اس سے نہ صرف توانائی کا نظام زیادہ مضبوط ہوا بلکہ مستقبل کے لیے توانائی کا تحفظ بھی بہتر ہوا۔
دونوں ممالک کے درمیان سب سے نمایاں فرق ان کے انفراسٹرکچر میں نظر آتا ہے۔ جرمنی نے روایتی بجلی کے نظام کو جدید اسمارٹ گرڈز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسمارٹ گرڈز ایسے ڈیجیٹل نیٹ ورک ہوتے ہیں جو بجلی کی پیداوار، تقسیم اور کھپت کو حقیقی وقت میں مانیٹر کرتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں بجلی کی طلب بڑھ جائے تو نظام خودکار طریقے سے دوسری جگہ سے بجلی منتقل کر دیتا ہے، جبکہ اضافی پیدا ہونے والی بجلی کو ضائع ہونے کے بجائے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔ اس جدید نظام کی بدولت بجلی کا ضیاع نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے اور صارفین کو مسلسل بجلی کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔
جرمنی نے توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی پر بھی غیر معمولی سرمایہ کاری کی ہے۔ بڑے بیٹری اسٹوریج سسٹمز، پمپڈ ہائیڈرو اسٹوریج اور پاور ٹو گیس جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے اضافی بجلی کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر پاور ٹو گیس ٹیکنالوجی میں اضافی بجلی کو ہائیڈروجن میں تبدیل کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو مستقبل میں دوبارہ توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہی ٹیکنالوجی جرمنی کو قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ استعمال کے باوجود بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کا ترسیلی نظام کئی دہائیوں پرانا ہو چکا ہے۔ بجلی کی پیداوار تو کسی حد تک بڑھ گئی ہے، لیکن اسے صارفین تک پہنچانے والا نیٹ ورک جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ لائن لاسز، بجلی چوری، پرانی ٹرانسمیشن لائنیں، کمزور گرڈ اسٹیشنز اور ناقص تقسیمی نظام کے باعث ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جب گرڈ پر بوجھ بڑھتا ہے تو بڑے پیمانے پر بلیک آؤٹ اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں، جس کا براہ راست اثر صنعت، تجارت، زراعت اور روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں کامیابی صرف وسائل سے نہیں بلکہ مستقل پالیسیوں سے حاصل ہوتی ہے۔ جرمنی نے کئی دہائیوں سے قابلِ تجدید توانائی کے لیے واضح قانون سازی، سرمایہ کار دوست پالیسیاں اور نجی شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے۔ اسی وجہ سے لاکھوں گھروں، فیکٹریوں اور کاروباری اداروں نے شمسی توانائی کے نظام نصب کیے، جبکہ نجی کمپنیاں بھی بڑے پیمانے پر ونڈ اور سولر منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
پاکستان میں بھی شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں اور حالیہ برسوں میں گھریلو سطح پر سولر سسٹمز کی تنصیب میں اضافہ ہوا ہے، لیکن بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، گرڈ کی جدید کاری، بیٹری اسٹوریج، اسمارٹ میٹرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ابھی بہت زیادہ پیش رفت کی ضرورت ہے۔ معاشی مشکلات، غیر یقینی پالیسیوں، گردشی قرضے، مالی وسائل کی کمی اور منصوبوں میں تاخیر توانائی کے شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف نئے پاور پلانٹس لگانا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے توانائی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو اپ گریڈ کیا جائے، بجلی چوری اور لائن لاسز پر قابو پایا جائے، اسمارٹ گرڈز اور جدید بیٹری اسٹوریج متعارف کرائے جائیں، نجی سرمایہ کاری کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور قابلِ تجدید توانائی کو قومی ترجیح بنایا جائے۔
جرمنی کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مستقل پالیسی، مؤثر حکمرانی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے توانائی کا شعبہ کسی بھی ملک کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت اور قابلِ تجدید توانائی کے وسیع امکانات موجود ہیں، لیکن ان وسائل کو مؤثر نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی عزم، تکنیکی جدت، ادارہ جاتی اصلاحات اور مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف بجلی کا بحران کم ہو سکتا ہے بلکہ صنعتی ترقی، برآمدات، روزگار اور مجموعی اقتصادی استحکام کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو توانائی کے دائمی بحران سے نکال کر پائیدار ترقی کی منزل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button