کالمزناصف اعوان

سیلابوں سے بچاؤ ممکن ہے !…..ناصف اعوان

اس بار تو یہ بھی ہوا ہے کہ لاہور ایسے شہروں میں بارشی پانی نے بھی خاصا نقصان کیا ہے کیونکہ یکدم تو نکاس ہو نہیں سکتا دریا ہیں کہ ان میں طغیانی آئی ہوئی ہے

پچھلے برس سیلابی اور بارشی پانی نے ایسے ایسے علاقوں کا رخ کیا جہاں توقع ہی نہیں کی جا سکتی تھی ۔جن لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ وہ کبھی بھی سیلاب سے متاثر نہیں ہوں گے وہ حیران رہ گئے مگر انہیں کیا معلوم کہ بھارت کی سوچ تعمیری نہیں تخریبی ہے وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتا لہذا اس نے دریاؤں میں اپنے ڈیموں کے تمام سوراخ کھول دئیے جس سے ہمارا ہر دریا بپھر گیا۔ تباہی پھیلنا شروع ہو گئی۔ مال مویشی مکانات اور انسانی جانیں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ بہت سے کسانوں کے ٹریکٹر تک ریت میں دب گئے ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ وہاں کوئی گھر حویلیاں اور ڈیرے تھے ہی نہیں۔ جو رہائشی سکیمیں دریاؤں کے ساتھ بنائی گئی تھیں ان میں بھی پانی بھر گیا لوگوں کی قیمتیں ترین عمارتیں زیر آب آ گئیں ۔
خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ موجودہ سیلاب کے پیش نظر آئندہ اس سے بچاؤ کے لئے اقدامات کر لئے جائیں گےاور جن لوگوں نے دریا کی حدود میں فصلیں کاشت کی تھیں وہ نہیں کاشت کریں گے مگرانہوں نے دوبارہ یہ جان کر کہ یہ زمیں سیلابی پانی سے طاقتور ہو چکی ہے اس میں جو بھی فصل اگائی جائے گی وہ بھر پور ہو گی یہ بات درست بھی تھی مگر اب جب پھر سیلاب آگئے ہیں اور جو فصلیں بوئی گئی تھیں وہ برباد ہو گئی ہیں جہاں دریا کنارا نہیں تھا میدانی علاقہ تھا وہاں کے کھیت بھی اجڑ گئے ہیں۔
اس بار تو یہ بھی ہوا ہے کہ لاہور ایسے شہروں میں بارشی پانی نے بھی خاصا نقصان کیا ہے کیونکہ یکدم تو نکاس ہو نہیں سکتا دریا ہیں کہ ان میں طغیانی آئی ہوئی ہے لہذا پوش بستیوں میں تہہ خانے کیا اور گراؤنڈ فلور کیا پانی سےبھر گئے جبکہ مون سون کا سلسلہ ابھی شروع ہوا ہے۔ انتظامہ مگر اعلان کرتی ہے کہ اس نے پورے انتظامات کر رکھے ہیں جو ناکافی ثابت ہو رہے ہیں لہذا سیلابوں سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ جہاں نشیبی علاقے ہیں وہاں بند باندھیں جائیں اور جو لوگ دریاؤں کے کنارے ڈیرے حویلیاں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں انہیں سختی سے روک دیا جائے ۔انہیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اب دریا کچھ دیر کے لئے سوکھتے ہیں اس کے بعد اچھل پڑتے ہیں کیونکہ بھارت نے ہر دریا پر ڈیم بنا لئے ہیں لہذا وہ جب بھرتے ہیں یا نہیں بھی بھرتے وہ ہماری طرف درے کھول دیتا ہے اگر یہی پانی مسلسل بہتا رہے تو سیلاب کا خطرہ بہت کم ہو سکتا ہے مگر بارشوں سے بھی کافی نقصان ہو رہا ہے لہذا متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہ بیٹھیں جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں کیونکہ موسم وہ نہیں رہے جو کبھی ہوتے تھے اب تو بارشیں ایسے ہوتی ہیں کہ جیسے ٹیوب ویل کی دھار نیچے گر رہی ہو۔ ظاہر ہے ہمارا ڈرین سسٹم بھی اس قابل نہیں کہ اس کو برداشت کر سکے مگر ہمارے ہاں سوچا اس وقت جاتا ہے جب کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔
اب تو یہ بھی جواز پیش کیا جاتا ہے کہ ملک کا خزانہ اس قابل نہیں کہ بڑے بڑے منصوبے شروع کیے جا سکیں لہذا لگ یہ رہا ہے کہ ابھی صورت حال پر قابو پانا مشکل ہے مگر بھارت کیوں ہمارا پانی بند کر رہا ہے اس نے ہمیں پانی کی فراہمی کا معاہدہ نہیں کر رکھا مگر مکرنے والے کا کیا ‘ کیا جا سکتا ہے لہذا عالمی عدالت میں جانا چاہیے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اگرچہ ہمارے حکمران کہتے رہتے ہیں کہ اگر بھارت نے پانی روکا تو جنگ ہو گی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسلے کو گفتگو سے حل کیا جائے عالمی بنک اور آئی ایم ایف کو بیچ میں ڈالا جائے کہ ہماری زمینیں بنجر ہو رہی ہیں ذرعی پیداوار میں کمی آ رہی ہے ۔ کسانوں کا تو ویسے بھی برا حال ہے ان کی اجناس کو کم قیمت پر خریدا جاتا ہے جس سے ان کی لاگت بھی بمشکل پوری ہوتی ہے بچت یہی ہے کہ ”دانا پھکا“ گھر آجاتا ہے اگرچہ موجودہ حکومت ان کی مدد کر رہی ہے مگر اس سے ان کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا۔
بہر حال ہمیں ہر طرح کے مصائب کا سامنا ہے ۔ قومی معیشت کی حالت انتہائی خراب ہے کہیں سے بھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آرہا۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکا سے دس ارب ڈالر کی رقم مانگی گئی ہے وہ دیتا ہے یا نہیں ابھی اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور اگر وہ آمادہ ہو تا ہے تو اس کی کیا شرائط ہوں گی جو قابل عمل بھی ہوں گی یا نہیں مگر جب ہمیں ڈالروں کی ضرورت ہے تو لازمی اس کی شرطوں کو ماننا ہی پڑے گا۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ دن بدلیں گے ضرور مگر عارضی طور سے کیونکہ آئی ایم ایف کے قرضوں کو بھی اتارنا ہے اس کا سود بھی ادا کرنا ہے لہذا ادھر سے ڈالر آتے ہیں تو اُدھر چلے جاتے ہیں ۔
سیلاب کی طرف دوبارہ آتے ہیں کہ جو پنجاب کے دریاؤں میں اودھم مچا رہا ہے ۔ جس سے کمزور بند ٹوٹ رہے ہیں کیونکہ ان میں بھی کمیشن کھایا جاتا ہے۔ جتنا پتھر پشتوں کے لئے درکار ہو تا ہے اس میں نہیں کھپایا جاتا۔ جب تک ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا کوئی عمارت پل یا بند ان میں پائیداری نہیں آسکتی ملکی معیشت کی بربادی میں اس نظام کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ کمیشن مافیا نیچے سے اوپر تک سب کو ان کا حصہ دیتا ہے بقیہ پروجیکٹ پر لگاتا ہے لہذا ایک بگاڑ پیدا ہو چکا ہے جسے ٹھیک کرنے کے لئے اہل اختیار کو سوچنا چاہیے کیونکہ یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ ایک خطرہ سامنے نظر آرہا ہو اور اس سے بچنے کے لئے اقدامات نہ کیے جائیں مگران کی ساری توجہ اپنی ذات پر ہوتی ہے اس صورت میں سیلاب آتا ہے تو آئے جو بھی بگڑنا ہے غریبوں کا ہی بگڑنا ہے ستم یہ کہ جب سیلاب زدگان کے لئے بیرونی ممالک سے امدادیں آتی ہیں تو وہ متاثرین تک کم ہی پہنچتی ہیں ان کو یہی لوگ جن کے ذمہ ان کا بندوبست ہوتا ہے وہ اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں اور بے چارے سیلاب زدگان دہائی دیتے رہ جاتے ہیں۔ دوائیں بھی ان تک برائے نام ہی پہنچتی ہیں اور انتظامی لوگ ان میں سے ایک بڑا حصہ بازار میں فروخت کر دیتے ہیں جن چند لوگوں کو ملتی ہیں ان کی تصاویر بنا کر میڈیا کو دے دی جاتی ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مشکلات و مصائب زندگی کا حصہ ہیں مگر ان سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ ہونا پڑتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی سیلاب آتے ہیں زلزلے۔ بھی آتے ہیں مگر انہوں نے حتی المقدور انتظامات کیے ہوتے ہیں کیونکہ یہ ان کی زمہ داری ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں ”سواری کو اپنے سامان کی خود حفاظت کرنےکا کہا جاتا ہے“ سواب سیلاب سے بچنے کے لئے لوگ اپنی مدد آپ کے کے تحت بھی مصروف عمل ہیں فوجی جوان بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ سیلاب اب ہر برس آرہاہے اور تباہی وبربادی کرکے چلا جاتا ہے جس سے معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً قومی خزانہ کمزور ہوتا جا رہا ہے جس کو توانا بنانے کےلئے کبھی کسی سے اور کبھی کسی سے قرضہ و فنڈز مانگنے پڑ رہے ہیں۔ اس سے درپیش مشکلات ہوں یا معاشی خطرات کم نہیں ہو سکتے لہذا ٹھوس بنیادوں پر کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button