
پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم، فری ٹریڈ معاہدہ، بارٹر ٹریڈ اور سرحدی تعاون پر اہم پیش رفت
اس مقصد کے لیے پاک ایران فری ٹریڈ معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جائے گی جبکہ بارٹر ٹریڈ کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر اور وسیع بنایا جائے گا تاکہ سرحدی علاقوں میں تجارت آسان اور تیز ہو سکے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے باہمی تجارت کا حجم آئندہ برسوں میں 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں ممالک نے آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) کو جلد از جلد حتمی شکل دینے، بارٹر ٹریڈ کے دائرہ کار میں توسیع، سرحدی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام، کسٹمز نظام میں بہتری اور علاقائی تجارتی روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اہم پیش رفت پاکستان اور ایران کے مشترکہ تجارتی کمیٹی (Joint Trade Committee – JTC) کے دسویں اجلاس میں سامنے آئی، جو منگل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر صنعت، تجارت و معدنیات ڈاکٹر محمد اتابک نے کی۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، کاروباری شخصیات، صنعتکاروں، سرمایہ کاروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، زرعی تعاون اور صنعتی شراکت داری سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تجارت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پاک ایران فری ٹریڈ معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جائے گی جبکہ بارٹر ٹریڈ کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر اور وسیع بنایا جائے گا تاکہ سرحدی علاقوں میں تجارت آسان اور تیز ہو سکے۔
جام کمال خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز کلیئرنس، کارگو نقل و حرکت اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ سرحدی مارکیٹوں کے قیام، جدید کسٹمز نظام اور الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج (EDI) کے نفاذ سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی بلکہ درآمدات و برآمدات کے عمل میں شفافیت اور سہولت بھی پیدا ہوگی۔
ایران کی پاکستان کے ساتھ طویل المدتی معاشی شراکت داری کی خواہش
ایران کے وزیر صنعت و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تجارت کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور ایران پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹیجک معاشی شراکت داری کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ تجارتی راہداریوں کی ترقی، سرحدی روابط کی بہتری اور جدید نقل و حمل کے نظام کے ذریعے تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کے صنعتی، تجارتی اور اقتصادی تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنی معیشتوں کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران خطے میں اقتصادی استحکام اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گوادر اور کراچی بندرگاہوں کی اہمیت
ڈاکٹر محمد اتابک نے پاکستان کی کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو علاقائی تجارت کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان بندرگاہوں کے ذریعے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں، ریلوے، شاہراہوں اور لاجسٹکس نیٹ ورک کی بہتری سے خطے میں تجارتی لاگت کم ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
کاروباری روابط کو فروغ دینے پر اتفاق
پاکستان کی وزارت تجارت کے مطابق ایرانی وفد میں 22 رکنی سرکاری وفد شامل ہے جبکہ ایران چیمبر آف کامرس کے 16 نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ وفد میں خوراک، ایگری بزنس، توانائی، ٹرانسپورٹیشن، شپنگ، لاجسٹکس، صنعتی شعبوں اور دیگر کاروباری اداروں سے وابستہ اعلیٰ حکام اور ماہرین شامل ہیں۔
وزارت تجارت کے مطابق اس اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت سے دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان براہ راست روابط مضبوط ہوں گے، نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار ہوگی۔
سرحدی تجارت اور بارٹر سسٹم کی توسیع
اجلاس میں سرحدی تجارت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بارٹر ٹریڈ میکانزم کو وسعت دینے، قانونی تجارتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی، اسمگلنگ کی روک تھام، جدید کسٹمز نظام متعارف کرانے اور سرحدی منڈیوں کے دائرہ کار کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکا کا کہنا تھا کہ بہتر سرحدی انتظامات اور جدید سہولیات سے نہ صرف مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے تاجروں کے لیے کاروباری لاگت بھی کم ہوگی۔
علاقائی اقتصادی تعاون کے نئے امکانات
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم کئی برسوں سے اپنی حقیقی صلاحیت سے کم رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک جغرافیائی محل وقوع، مشترکہ سرحد، توانائی، معدنیات، زراعت، ٹرانسپورٹ اور بندرگاہوں کے شعبوں میں وسیع تعاون کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فری ٹریڈ معاہدہ، جدید کسٹمز نظام، بارڈر مارکیٹس، لاجسٹکس کوریڈورز اور توانائی کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان، ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان علاقائی اقتصادی تعاون کا ایک نیا باب بھی کھل سکتا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی اعتماد، مسلسل رابطوں، نجی شعبے کی شمولیت اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے ذریعے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی، صنعتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کی معیشتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔



