
عوامی نمائندوں کی تربیت لازمی !…….ناصف اعوان
اس کی اہم وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان کے ذہن میں حکمرانی کرنا ہوتا ہے عوام کے لئے ان کی ہمدردیاں بس اتنی ہی ہوتی ہیں
وِل ڈیورانٹ کہتا ہے کہ” ابتدا میں ہر شخص اپنا طبیب خود تھا اور ہر گھر میں ضرورت کی دوائیں موجود ہوتی تھیں لیکن جوں جوں طبی معلومات میں اضافہ ہوتا گیا ایک عام انسان کے لئے یہ ناممکن ہو گیا کہ وہ تمام فہرست ادویہ کو حفظ کر لے۔ لوگوں کا ایک خاص گروہ اٹھا اور انہوں نے اپنا وقت طب کے مطالعہ پر صرف کیا اور ماہر طبیب وجود میں آئے.لوگوں کو عطائیوں سے محفوظ کرنے کے لئے طب کے ماہرین کو اعلیٰ خطاب اور سندیں دی گئیں ۔اب حالات یہ ہیں کہ جب تک کسی نے یہ سند حاصل نہ کی ہو’ قانون اسے طبابت کرنے کی اجازت نہیں دیتا. ہم اب عطائیوں کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہمارے امراض کا کھوج کریں یا ہماری زندگی کو خطرہ میں ڈالیں۔ ہم معالج سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کا قیمتی حصہ طب کے مطالعہ پر قربان کر چکا ہو گا مگر جو لوگ ہمارے اجتماعی امراض کا علاج کرتے ہیں اور کروڑوں جانوں کو جنگ اور امن میں خطرہ میں ڈالتے ہیں جن کے اختیار میں ہماری جائداداور ہماری آزادی ہے انہیں کسی مہارت یا مطالعہ کی ضرورت نہیں ۔یہ کافی ہے کہ وہ صدر کے دوست ہوں۔جماعت کے کے وفادار ہوں ‘خوبرو اور خوش اخلاق ہوں ‘گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہوں’ کندھوں پر ہاتھ مارتے ہوں ‘بچوں کو چومتے ہوں ‘ خاموشی سے احکام کی بجا آوری کرتے ہوں ‘موسمی پیمانہ کی طرح خوش آئند وعدوں سے معمور ہوں چاہے وہ کچھ ہوں قصاب حکام وکیل یا اخبار نویس اس سے ہمیں غرض نہیں “
وِل ڈیورانٹ نے بڑی حد تک درست کہا ہے کیونکہ ہمارے نمائندے کسی درسگاہ سے تربیت حاصل کیے بغیر حکومت میں آتے ہیں ان میں غالب اکثریت سرمایہ داروں جاگیر داروں اور تاجروں کی ہوتی ہے جو بظاہر تو عوامی نمائندے ہوتے ہیں مگر ان کے خیالات ان کی ترجیحات اور ان کی مصروفیات عوامی کم اور ذاتی زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کی اہم وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان کے ذہن میں حکمرانی کرنا ہوتا ہے عوام کے لئے ان کی ہمدردیاں بس اتنی ہی ہوتی ہیں جس سے ان میں یہ تاثر ابھرتا ہو کہ وہ نمائندے ان کے بڑے خیر خواہ ہیں ان کی مشکلات و مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور وہ ان کو حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ملکی تاریخ بتاتی ہے کہ مسائل حل کرتے کرتے اٹھہتر برس گزر چکے ہیں مگر وہ جوں کے توں ہیں۔ ہاں البتہ ان کی اپنی مشکلات ختم ہو چکی ہیں. وِل ڈیورانٹ کی یہ بات سچ ہے کہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کون ہے‘ کیا ہے۔ لہذا ہمارے ہاں جس کسی کے پاس پیسا ہے اور پارٹی سربراہ کا منظور نظر ہے اسے ٹکٹ دے دیا جاتا ہے اور جب وہ جیت جاتا ہے تو عوام کا خیال ذہن سے نکال دیتا ہے مگر وہ اپنے حلقہ میں کوئی معمولی کارکردگی بھی دکھاتا ہے تاکہ لوگ اسے اپنی خدمت سے غافل نہ سمجھیں لیکن جو بنیادی نوعیت کی تعمیر وترقی ہوتی ہے اس کے لئے وہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی جماعت وہی کام کرتی ہے جس کے لئے عالمی مالیاتی اداروں کی مرضی ہوتی ہے کیونکہ جب وہ قرضہ دیتے ہیں تو ان کا اپنا پروگرام ہوتا ہے لہذا یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہم قرضوں کے جھنجھٹ سے جان نہیں چھڑا سکے۔ کوئی ایسا راستہ بھی نظر نہیں آرہا کہ جس پر چل کر ہم خود کفالت کے دائرے میں داخل ہو سکیں لہذا ہماری معیشت ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی ہے اس کے بر عکس عوامی نمائندوں کی ”معیشت“ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ستم مگر یہ ہے کہ وہ اپنا سرمایہ ملک میں نہیں رکھتے۔
اس تناظر میں وِل ڈیورانٹ کہتا ہے کہ” جوں جوں حکومت زیادہ پیچیدہ ہوتی جاتی ہے ’منتخب نمائندے کم سے کم اہم اور ماہرین زیادہ اہم ہوتے جاتے ہیں ۔ منتظمین ‘ آئین کے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں کیونکہ منتظمین ماہرین کی مجالس سے امداد حاصل کرتے ہیں ۔ پریزیڈنٹ ہارڈنگ کے عہد حکومت میں کانگریس کے اراکین کو یہ دیکھ کر سخت صدمہ پہنچا کہ ایک پریڈ میں انہیں چند ماہرین کے پیچھے بیٹھنے کی جگہ ملی ۔ سینٹ نے اس معاملہ پر باقاعدہ احتجاج کیا اور مسٹر ہارڈنگ نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا جواب دیا ‘ لیکن اس واقعہ نے یہ ظاہر کر دیا کہ حالات کا رخ بدل رہا ہے ”نمائندہ حکومت“ ختم ہو چکی تھی ”جمہوریت“ نے اپنے عہدوں پر قابل آدمیوں کو متعین کرنے کی کوئی راہ نہیں اختیار کی تھی۔ اور جب جمہوریت اخبار پڑھ رہی تھی یا تقریریں کر رہی تھی ذہین لوگ طاقت حاصل کر رہے تھے“
ہمارے ”جمہوری حکمرانوں“ نے تعلیم و تربیت سے مستفید ہونے کی کوشش نہیں کی وہ دوسروں پر ہی انحصار کرتے آئے ہیں یعنی انہوں نے اپنے گرد ایسے مشیر جمع کیے رکھے جو زیادہ تر حکمرانی کے گُر تو بتاتے کہ لوگوں کو بیوقوف فلاں فلاں طریقوں سے بنایا جا سکتا ہے ۔ان کا سطحی منصوبوں اور پالیسیوں کے ذریعے اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے ۔پہلی حکومت کے تمام پروگراموں کو روک کر دوبارہ ان کو شروع کرکے اپنی قدر و قیمت بڑھائی جا سکتی ہے ۔اس طرح کی حکومتیں آتی رہیں اور جاتی رہیں ہیں ان کے اس انداز حکومت کی بنا پر ہی ذہین لوگ انہیں عوام کی نگاہوں سے گراتے رہے ہیں۔ اسی لئے عوام کا ان پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے وہ یہ سوچنے لگے ہیں کہ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کون سی سیاسی جماعت اقتدار میں آتی ہے اور کون سی نہیں ۔جو بھی ان کو خوشحالی سے ہم کنار کرے۔ گمبھیر مسائل سے نجات دلائے اور ان کو انصاف دلوائے وہی ان کے لئے اہم اور معتبر ہو گی۔ ایسی صورت حال اسی لئے پیدا ہوئی ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر کبھی جھانک کر نہیں دیکھا کہ ان میں جو لوگ شامل ہیں وہ عوام کے ہمدرد ہیں باصلاحیت ہیں امور مملکت کو سمجھتے ہیں اور یہ چیز اس وقت ان میں موجود ہوتی ہے جب ان کی باقاعدہ تربیت ہو چکی ہو جو کسی درسگاہ میں دی گئی ہو مگر یہ بھی ہے کہ ان میں عوام کی خدمت کا جزبہ موجزن ہو۔ جماعت کا منشور واضح ہو اس میں ابہام نہ ہو اور وہ جماعت عوام کو جواب دہ ہو مگر اب تک ہماری کسی جماعت نے بھی ان خطوط پر نہ سوچا نہ عمل کیا لہذا اب عوام بے چین ہیں غربت کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں ان کی فریاد کوئی بھی سننے کو تیار نہیں وہ بولنا چاہتے ہیں تو انہیں بولنے نہیں دیا جاتا مگر ملکی معاملات تب بھی مشکل صورت حال سے دو چار ہیں۔ چہرے بدل بدل کر بھی دیکھا جاتا ہےمگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ ہمارا طریقہ کار ہی روایتی ہے اصل وجہ کو جاننے کی کوشش نہیں کی جا رہی لہذا پورے ملک میں ایک ہیجان برپا پے۔ لوگوں کی زندگی بے کیف ہو چکی ہے جینے کا ہر راستہ دھندلا چکا ہے جس کو واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مخلص پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ افراد آگے لائے جائیں!

