
جماعتِ اسلامی کی ملک گیر احتجاجی تحریک کا تیسرا مرحلہ شروع، خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دھرنے اور ریلیاں
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے خلاف احتجاج، حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ؛ جماعتِ اسلامی کا قیمتوں میں کمی اور عوامی مسائل حل ہونے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان
سید عاطف ندیم-ادارت
پشاور: جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف اپنی ملک گیر احتجاجی تحریک کے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کے روز خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دھرنے، احتجاجی ریلیاں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے گئے، جن میں جماعتِ اسلامی کے مقامی اور صوبائی رہنماؤں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے اور ان کے مطابق غیر منصفانہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔
جماعتِ اسلامی کی جانب سے جاری احتجاجی سرگرمیاں امیر جماعتِ اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر منعقد کی گئیں۔ پشاور، مردان، نوشہرہ، صوابی، چارسدہ اور خیبر سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پارٹی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ جب تک حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتی، احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔
جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، زراعت اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ ان کے مطابق، پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے، اس لیے حکومت کو قیمتوں اور ٹیکسوں سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
پشاور میں ہشتنگری چوک پر دھرنا
صوبائی دارالحکومت پشاور میں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے ہشتنگری چوک پر احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرے کی قیادت ضلعی امیر بحر اللہ خان ایڈووکیٹ نے کی۔
اس موقع پر شرکا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے ہی محدود آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع بھی مہنگائی کے دباؤ سے متاثر ہوتے ہیں۔
مظاہرین کے مطابق، حکومت کو ایسی معاشی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جس میں عام شہریوں کی قوتِ خرید اور بنیادی ضروریات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعتِ اسلامی اپنے مطالبات کے حق میں عوامی سطح پر احتجاج جاری رکھے گی۔
مردان میں پریس کلب کے باہر احتجاج
مردان میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا کے مرکزی رہنما عبدالواسی اور ضلعی امیر غلام رسول نے کی۔
مظاہرے کے دوران جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہریوں کے لیے سفر، کاروبار اور گھریلو ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق، ایندھن مہنگا ہونے سے مال برداری اور مسافر ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کے اثرات بالآخر صارفین تک پہنچتے ہیں۔
رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور ان پر عائد ٹیکسوں و لیوی کے معاملے میں عوامی مفاد کو مدنظر رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات کے شکار شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
نوشہرہ میں شوبرا چوک پر دھرنا
نوشہرہ میں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے شوبرا چوک پر دھرنا دیا۔ احتجاج کی قیادت صوبائی نائب امیر خالد وقاص اور ضلعی امیر حاجی عنایت الرحمٰن نے کی۔
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے مہنگائی، توانائی کے بحران اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ دباؤ کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔
جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوامی مشکلات کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر پالیسی وضع کرنے پر زور دیا۔
صوابی میں امن چوک پر احتجاجی ریلی
صوابی میں جماعتِ اسلامی کی جانب سے امن چوک پر احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت ضلعی امیر مفتی مراد احمد، سعید زادہ یوسف زئی اور واجد علی شاہ ایڈووکیٹ نے کی۔
ریلی کے شرکا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں۔ رہنماؤں کے مطابق، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مختلف شعبوں پر پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے اور ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے شہریوں کی قوتِ خرید بہتر ہو سکے۔
خیبر میں بھی ریلی، قیمتوں میں کمی کا مطالبہ
ضلع خیبر میں بھی جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے احتجاجی ریلی نکالی۔ اس کی قیادت صوبائی نائب امیر میاں شعیب الدین کاکاخیل اور ضلعی امیر شاہ فیصل آفریدی نے کی۔
ریلی کے دوران شرکا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے خلاف اپنے مطالبات پیش کیے۔ جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔
رہنماؤں نے واضح کیا کہ احتجاجی تحریک کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت کو قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق، جب تک مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوتی، جماعتِ اسلامی اپنی احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
چارسدہ میں فاروق اعظم چوک پر عوامی اجتماع
چارسدہ میں فاروق اعظم چوک پر عوامی اجتماع منعقد ہوا، جس کی قیادت جماعتِ اسلامی کے ضلعی امیر شاہ حسین ایڈووکیٹ نے کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے مہنگائی اور بنیادی سہولتوں سے متعلق مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عام شہریوں کے علاوہ چھوٹے تاجروں، محنت کشوں، کسانوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد پر بھی پڑتے ہیں۔
جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے فوری اور قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق، معاشی فیصلوں میں عام شہریوں کی ضروریات اور مالی استطاعت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ہونے والے احتجاجی اجتماعات کے دوران جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ہی نہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال اور بجلی و گیس کی طویل لوڈشیڈنگ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صوبے کے متعدد علاقوں میں شہریوں کو ایک طرف مہنگائی کا سامنا ہے تو دوسری جانب توانائی کی فراہمی میں تعطل ان کی روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ان کے مطابق، بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ سے گھریلو معمولات کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار اور تجارتی سرگرمیاں بھی مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام توانائی کی فراہمی بہتر بنانے، امن و امان کے مسائل پر قابو پانے اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کریں۔
جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کا حل صرف سیاسی بیانات یا عارضی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے پالیسی سازی، انتظامی اقدامات اور مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔
گورنر راج اور انسدادِ تجاوزات کارروائیوں پر اعتراضات
احتجاجی اجتماعات کے دوران جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد شروع کی گئی انسدادِ تجاوزات کارروائیوں پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا الزام تھا کہ ان کارروائیوں کے ذریعے عوام کی توجہ فوری اور بنیادی مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تجاوزات کے معاملے میں صرف ان افراد کے خلاف کارروائی نہ کی جائے جنہوں نے غیر قانونی طور پر جگہوں پر قبضہ کیا، بلکہ ان سرکاری عہدیداروں اور اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے جنہوں نے مبینہ طور پر غیر قانونی تجاوزات قائم کرنے یا انہیں برقرار رکھنے میں سہولت فراہم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری سطح پر کسی قسم کی ملی بھگت یا اختیارات کے غلط استعمال کے شواہد موجود ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
تاہم، گورنر راج کے نفاذ، انسدادِ تجاوزات کارروائیوں کے مقاصد اور ان کے قانونی جواز سے متعلق حکومتی مؤقف اس احتجاجی بیان میں شامل نہیں تھا۔ ان الزامات اور دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری مؤقف اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔
احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان
جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ احتجاجی تحریک کے تیسرے مرحلے کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی کے خلاف عوامی آواز کو مؤثر انداز میں حکومت تک پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق، جب تک پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبات پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی، احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
رہنماؤں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل کے خلاف پرامن احتجاج میں حصہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت سے جواب طلب کرنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
دوسری جانب، احتجاج کے اثرات اور تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت جماعتِ اسلامی کے مطالبات پر کیا ردِعمل دیتی ہے اور آیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، لیوی اور عوامی ریلیف سے متعلق کوئی عملی فیصلہ سامنے آتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ہونے والے یہ مظاہرے مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور بنیادی سہولتوں سے متعلق عوامی تشویش کو نمایاں کرتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس کے مطالبات پر حکومتی ردِعمل اور آئندہ اقدامات سامنے آنا باقی ہیں۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



