
برلن میں پاکستانی ثقافت اور دستکاری کے رنگ بکھر گئے، بین الاقوامی نمائش ’’بازار برلن‘‘ میں پاکستان کا خصوصی پویلین قائم
جرمنی میں پاکستانی سفیر سلمان شریف کا پاکستانی پویلین کا دورہ، روایتی دستکاری اور مصنوعات کے معیار کی تعریف؛ تقریباً 60 ممالک کی شرکت، پاکستانی قالین، لکڑی کا فرنیچر، پیتل کی مصنوعات، روایتی کڑھائی اور مٹی کے برتن غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز، یورپی منڈیوں تک رسائی اور پاک جرمن تجارتی روابط کے فروغ پر زور
سید عاطف ندیم-ادارت
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی و ثقافتی نمائش ’’بازار برلن‘‘ کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً 60 ممالک کے نمائش کنندگان، ہنرمند اور کاروباری نمائندے اپنی روایتی مصنوعات اور ثقافتی ورثے کو متعارف کرا رہے ہیں۔
نمائش میں سفارت خانہ پاکستان کی جانب سے خصوصی پاکستانی پویلین قائم کیا گیا ہے، جہاں پاکستان کے مختلف علاقوں کی روایتی دستکاری، ثقافتی مصنوعات اور مقامی صنعتوں کی مہارت کو یورپی عوام اور بین الاقوامی خریداروں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
جرمنی میں پاکستان کے سفیر سلمان شریف نے نمائش کے افتتاحی روز پاکستانی پویلین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستانی تاجروں، ہنرمندوں اور نمائش میں شریک کاروباری نمائندوں سے ملاقات کی۔
سفیر پاکستان نے پاکستانی مصنوعات کے معیار، روایتی فنون اور دستکاروں کی مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی بین الاقوامی نمائشیں پاکستان کی ثقافتی شناخت اجاگر کرنے کے ساتھ ملکی مصنوعات کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سفیر سلمان شریف کی پاکستانی تاجروں اور دستکاروں سے ملاقات
پاکستانی پویلین میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی دستکاری کی مصنوعات نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ان میں ہاتھ سے تیار کردہ لکڑی کا نفیس فرنیچر، پیتل کی آرائشی مصنوعات، ہاتھ سے بنے قالین، روایتی کڑھائی سے مزین اشیاء، علاقائی مٹی کے برتن اور دیگر ثقافتی مصنوعات شامل ہیں۔یہ مصنوعات پاکستان کے قدیم ہنر، علاقائی ثقافت اور دستکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔پاکستان کے مختلف علاقوں میں لکڑی، دھات، کپڑے، قالین بافی اور مٹی کے برتن بنانے کی روایات طویل عرصے سے مقامی ثقافت اور معاشی سرگرمیوں کا حصہ رہی ہیں۔بازار برلن میں ان مصنوعات کی نمائش کا مقصد پاکستانی ہنرمندوں کے فن کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانا اور ممکنہ تجارتی مواقع پیدا کرنا ہے۔
جرمنی میں پاکستان کے سفیر سلمان شریف نے پاکستانی پویلین کے دورے کے دوران نمائش میں شریک تاجروں اور دستکاروں سے ملاقات کی اور ان کی پیش کردہ مصنوعات میں دلچسپی ظاہر کی۔انہوں نے پاکستانی دستکاری کے روایتی فن اور مصنوعات کے معیار کو سراہا۔سفیر پاکستان نے کہا کہ بین الاقوامی تجارتی میلوں میں پاکستانی کاروباری اداروں کی شرکت یورپی منڈیوں میں ان کی شناخت مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ان کے مطابق ایسی نمائشوں سے پاکستانی مصنوعات کو براہ راست خریداروں کے سامنے پیش کرنے، کاروباری روابط قائم کرنے اور برآمدات کے نئے امکانات تلاش کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔انہوں نے پاکستانی ہنرمندوں اور کاروباری طبقے کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کو اہم قرار دیا۔
یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے بازار برلن اہم پلیٹ فارم
سفیر سلمان شریف نے کہا کہ بازار برلن پاکستان کے ثقافتی ورثے اور روایتی دستکاری کو یورپی عوام اور خریداروں کے سامنے پیش کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارتی نمائشوں میں شرکت سے پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ممکنہ خریداروں، تجارتی نمائندوں اور درآمد کنندگان سے رابطے قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔یورپی منڈیوں میں پاکستانی دستکاری، ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات اور ثقافتی اشیاء کی تشہیر کے لیے بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ایسے پلیٹ فارمز پر براہ راست ملاقاتوں سے کاروباری اداروں کو صارفین کی ترجیحات، مصنوعات کے معیار اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔پانچ روزہ بازار برلن میں دنیا کے تقریباً 60 ممالک کے نمائش کنندگان اور ہنرمند شریک ہیں۔نمائش میں مختلف ممالک کی روایتی مصنوعات، ثقافتی اشیاء اور دستکاری کو پیش کیا جا رہا ہے، جس سے شرکاء کو متنوع ثقافتوں اور کاروباری مصنوعات سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔پاکستان کی شرکت اس لحاظ سے اہم ہے کہ ملک کی روایتی دستکاری اور علاقائی مصنوعات کو ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔اس نوعیت کی نمائشیں ثقافتی تبادلے کے ساتھ کاروباری روابط اور بین الاقوامی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔
پاکستانی قالین، فرنیچر اور روایتی کڑھائی کی نمائش
پاکستانی پویلین میں ہاتھ سے بنے قالین، لکڑی کا فرنیچر اور روایتی کڑھائی سے مزین مصنوعات نمایاں طور پر پیش کی گئی ہیں۔پاکستانی قالین بافی اور لکڑی کی دستکاری ملک کی روایتی صنعتوں میں شمار ہوتی ہیں، جبکہ مختلف علاقوں کی کڑھائی اپنے مخصوص ڈیزائن، رنگوں اور کاریگری کے باعث الگ شناخت رکھتی ہے۔اسی طرح پیتل کی مصنوعات اور مٹی کے برتن پاکستان کے علاقائی فنون اور ثقافتی روایات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان مصنوعات کو عالمی نمائش میں پیش کرنے سے پاکستانی ہنرمندوں کے کام کی شناخت بڑھانے اور بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ رابطے قائم کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔نمائش کے پہلے روز پاکستانی پویلین میں بین الاقوامی خریداروں، تجارتی نمائندوں اور مقامی شہریوں نے دلچسپی کا اظہار کیا۔شرکاء نے پاکستانی دستکاری اور ثقافتی مصنوعات کا مشاہدہ کیا، جبکہ نمائش میں شریک پاکستانی تاجروں کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے کا موقع ملا۔بین الاقوامی خریداروں کی دلچسپی پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے مستقبل میں تجارتی روابط قائم کرنے کا ابتدائی موقع بن سکتی ہے۔تاہم افتتاحی روز ہونے والے کسی حتمی تجارتی معاہدے، برآمدی آرڈر یا کاروباری سودے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
پاک جرمن تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کی کوششیں
پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارتی اور ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیاں اہمیت رکھتی ہیں۔جرمنی یورپ کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے ایک اہم بین الاقوامی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستانی دستکاری اور مقامی صنعتوں کی بین الاقوامی نمائش سے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان رابطوں کو وسعت دینے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ثقافتی مصنوعات کی نمائش پاکستانی روایات، علاقائی فنون اور ہنرمندوں کی صلاحیتوں سے متعلق آگاہی بڑھانے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔بازار برلن میں پاکستانی پویلین کی موجودگی ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان میں دستکاری کی صنعت سے وابستہ متعدد کاروبار چھوٹے پیمانے پر کام کرتے ہیں اور انہیں بین الاقوامی مارکیٹنگ، خریداروں تک رسائی اور برآمدی رابطوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت ایسے کاروباروں کو اپنی مصنوعات براہ راست متعارف کرانے اور ممکنہ خریداروں سے رابطے قائم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اس کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے مصنوعات کے معیار، مناسب پیکجنگ، مسابقتی قیمتوں، بروقت فراہمی اور متعلقہ تجارتی تقاضوں کی تکمیل بھی اہم ہے۔
پاکستانی دستکاری اور مقامی صنعتوں کی سرپرستی جاری رکھیں گے، سفیر سلمان شریف
سفیر پاکستان سلمان شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سفارت خانہ پاکستان قومی دستکاری اور مقامی صنعتوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ سفارت خانہ پاکستانی کاروباری طبقے کو تجارتی روابط بڑھانے، ممکنہ خریداروں سے ملاقاتوں اور برآمدی مواقع کی تلاش میں معاونت فراہم کرنے کے لیے اس نوعیت کے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی یقینی بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ان کے مطابق عالمی تجارتی میلوں میں پاکستانی مصنوعات کی موجودگی نہ صرف ملکی کاروبار کے لیے مفید ہے بلکہ پاکستان کی ثقافتی شناخت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی کوشش
بازار برلن میں پاکستانی پویلین کا قیام ثقافتی سفارت کاری کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہے۔ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے ممالک اپنی روایات، فنون، تاریخی ورثے اور تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کراتے ہیں۔پاکستانی دستکاری کی نمائش یورپی عوام کو پاکستان کے ثقافتی تنوع اور مقامی ہنرمندوں کی مہارت سے واقف کرانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اس نوعیت کی سرگرمیوں سے ثقافتی روابط مضبوط بنانے کے ساتھ تجارتی تعاون کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جاری پانچ روزہ بین الاقوامی نمائش بازار برلن میں پاکستانی پویلین کی شرکت ملکی دستکاری، ثقافتی ورثے اور مقامی صنعتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔تقریباً 60 ممالک کی شرکت سے منعقد ہونے والی اس نمائش میں پاکستانی قالین، لکڑی کا فرنیچر، پیتل کی مصنوعات، روایتی کڑھائی اور مٹی کے برتن ملک کی علاقائی ثقافت اور ہنرمندی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔جرمنی میں پاکستان کے سفیر سلمان شریف نے افتتاحی روز پویلین کا دورہ کرکے پاکستانی تاجروں اور دستکاروں کی حوصلہ افزائی کی اور یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے عالمی تجارتی نمائشوں کی اہمیت اجاگر کی۔سفارت خانہ پاکستان کے مطابق بازار برلن جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستانی دستکاری کی شناخت بڑھانے، مقامی صنعتوں کے لیے ممکنہ خریدار تلاش کرنے اور پاکستان و جرمنی کے درمیان تجارتی و ثقافتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔



