کالمزناصف اعوان

روایتی نظام حیات کی تبدیلی…… ناصف اعوان

اس میں ہر ایم این اے‘ ایم پی اے کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں کوئی وزیر اعلی ہو یا وزیر اعظم اسے ان کو ساتھ رکھنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں فنڈز دے کر راضی رکھنا ہوتا ہے

ہماری روایتی سیاسی جماعتیں بھی بڑی عجیب ہیں انتخابات کے دنوں میں یہ ایک دوسرے کی خرابیاں کوتاہیاں اور مداریاں بیچ چوراہے میں خوب اچھالتی ہیں۔ مقصد عوام کی ہمدردیاں سمیٹنا ہوتا ہے مگر جب انتخابات اختتام پزیر ہوتے ہیں تو یہ آپس میں بغلگیرہو جاتی ہیں لیکن اب ان کی یہ حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے عوام کو ان کی سیاست کا علم ہو چکا ہے اسی لئے ان کی غالب اکثریت پی ٹی آئی کی طرف چلی گئی ہے ۔ شاید لوگ ان کے سیاسی حصار سے باہر نہ آتے اگر دونوں اقتداری جماعتوں نے جمہوریت کو فروغ دیا ہوتا عوام کے گمبھیر مسائل کو حل کر دیا ہوتا ان پر قرضوں کا بھاری بوجھ نہ ڈالا ہوتا قومی خزانہ کو اپنے تصرف میں بھی نہ لایا گیا ہوتا ملک دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ترقی کر گیا ہوتا۔ اب جب ایک جماعت کو نکڑے لگا کر دونوں بر سر اقتدار جماعتیں عوام کی توجہ حاصل کرنا چاہ رہی ہیں تو اس میں انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی کیونکہ وہ اٹھہتر برس سے مشاہدہ ہی نہیں تجربہ بھی کر چکے ہیں پھر یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اس میں کچھ بھی نہیں چھپایا جا سکتا اس کے باوجود ہماری روایتی سیاسی جماعتیں مصر ہیں کہ وہ عوام کو دوبارہ بیوقوف بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی؟
ہم گاہے گاہے عرض کرتے رہتے ہیں کہ اب گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں روایتی طرز حکمرانی و سیاست کی اب گنجائش نہیں رہی لہذا نیا دور ہے اور اس کے نئے تقاضے ہیں۔ اب روایتی انداز حکمرانی اور روایتی نظام کو تبدیل کیے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے اور ملک آگے نہیں بڑھ سکتا لہذا ضروری ہو گیا ہے کہ سب جماعتیں مل کر سوچیں اور عوام کو اپنے طرز عمل سے قریب لائیں۔
بہرحال اب جب وزیر داخلہ محسن نقوی نظام کی ناکامی کا کہتے ہیں تو اس پر سب کو غور کرنا چاہیے وہ کچھ غلط نہیں کہتے کیونکہ موجودہ نظام میں خامیاں ہی خامیاں ہیں کہ ابھی تک یہ عوام کو زندگی کی آسائشیں فراہم نہیں کر سکا انصاف نہیں دے سکا تعلیم اور صحت کی سہولتیں دینے سے قاصر ہے۔ اس میں ہر ایم این اے‘ ایم پی اے کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں کوئی وزیر اعلی ہو یا وزیر اعظم اسے ان کو ساتھ رکھنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں فنڈز دے کر راضی رکھنا ہوتا ہے اور وہ فنڈز ان کی صوابدید پر ہوتے ہیں اور یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہو گا کہ جتنے بھی ترقیاتی منصوبے ہوتے ہیں ان میں گھپلے بھی کیے جاتے ہیں ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے اب بھی ہو رہا ہے اور یہ موجودہ نظام کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ چلئے مان لیا کہ یہ نظام عوام کے مفاد میں ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ابھی تک غربت بیماری بے روزگاری اور مہنگائی پر کیوں قابو نہیں پا سکا ۔ دو بڑے خاندان طویل عرصے سے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے چلے آرہے ہیں مگر حالات اپنے تبدیل نہیں ہو سکے۔
یہ اسی نظام کا ہی کیا دھرا ہے کہ ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔ ایسے منصوبے نہیں بن سکے جو ہماری بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوں۔ بنیادی صنعتیں نہیں قائم کی جا سکیں ۔ ہمیشہ سطحی پروگراموں کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ لوگ خوش ہو جائیں۔ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوا لہذا آج غربت اوپر ہی اوپر جا رہی ہے بیماریوں نے پورے ملک کے عوام کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ غذائیں انہیں خالص نہیں مل رہیں۔ دوائیں اتنی مہنگی ہیں کہ وہ انہیں خرید نہیں پارہے پھر جعلی بھی فروخت ہوتی ہیں ۔سرکاری اسپتالوں میں جاتے ہیں تو ان کو خوار ہونا پڑتا ہے ڈاکٹر حضرات سے ان کی عدم توجہی سے متعلق پوچھ لیا جائے تو وہ برہم ہو جاتے ہیں۔ ہڑتال کی دھمکی دے ڈالتے ہیں کوئی ایک مصیبت ہے۔ تعلیم کی طرف آئیں تو نظر آتا ہے کہ نجی اداروں میں غریب کا بچہ نہیں جا سکتا۔ سرکاری درسگاہوں کو پرائیویٹ کیا جا رہا ہے وہاں عارضی ٹیچرز بھرتی کیے جاتے ہیں انہیں معمولی تنخواہیں دے کر نتائج سو فیصد حاصل کیے جاتے ہیں پھر وہ کوئی میٹرک پاس ہوتا ہے تو کوئی انٹرمیڈیٹ۔ جو سرکاری درسگاہیں ابھی نجی تحویل میں نہیں دی گئیں ان کے اساتذہ ایم اے ایم فِل اور پی ایچ ڈی تک ہوتے ہیں اور نتائج بھی بہت بہتر دیتے ہیں۔ اس نظام کا دستور ہی نرالا ہے اس کی نظر حکومتی اخراجات و خواہشات پر زیادہ ہوتی ہے اسی لئے ہی یہ برسوں کے بگاڑ کو درست نہیں کر سکا لہذا اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح اب انتظامی یونٹس کو بھی دیکھا جانا چاہیے جس طرح ابادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے پیش نظر انتظامیہ اور عوام دونوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں ہر ادارے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے بھی عوام کو برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے لہذا نئے صوبے بننے چاہیں ہر بڑے شہر کو بھی صوبہ بنا دیا جائے تو کوئی غلط نہیں ہو گا اس سے دور دراز کے لوگوں کو سہولت ملے گی اب جب انہیں پانچ چھے سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے صوبائی دارلحکومت میں آنا پڑتا ہے تو ان کی تکلیف کا اندازہ کیا جا سکتا ہے لہذا سیاسی جماعتوں کو یہ پسند نہیں ہوگا کیونکہ وہ وفاق سے بھاری بھرکم اپنا حصہ وصولتی ہیں اور ان کا استعمال کہاں کہاں ہوتا ہے کتنا ہوتا ہے کسی سی ڈھکا چھپا نہیں یعنی اس نظام حکومت اور نظام زندگی میں بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں کہ جس سے ملک کی معیشت ہانپ رہی ہے۔ ذرائع پیداوار سکڑ رہے ہیں درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے برآمدات کم ہو رہی ہیں اور قرضوں کا بوجھ کر غریب آدمی پر بڑھ رہا ہے ۔
اس کا ذمہ دار حکومت کو ہی ٹھہرایا جا ہے گا کیونکہ اس نے اقتدار میں آتے وقت سب ٹھیک کرنے کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا تھا کہ وہ تجربہ کار ہے پچھلی کو تو کچھ پتا ہی نہیں تھا کیونکہ اس کا وزیر اعظم ایک کرکٹر تھا اسے کیا معلوم کہ حکمرانی کیسے کی جاتی ہے اور معیشت کو کیسے مستحکم کیا جاتا ہے عوام کے مسائل کیسے حل کیے جاتے ہیں مگر اس وقت معیشت کی نیا ہچکولے لے رہی ہے۔
اگرچہ حکومتی کوششیں بھی کی جارہی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح معیشت سنبھل جائے جس کو سنبھالا دینے کے لئے مزید قرضے لئے جا رہے ہیں مگر بات بن نہیں رہی کیونکہ سرمایہ کاری ہو نہیں رہی۔ نئی صنعتیں قائم نہیں ہو رہیں جو پہلے سے موجود ہیں وہ بھی مسائل کا شکار ہیں کچھ تو ملک چھوڑ چکی ہیں۔ ایسی صورت میں ملکی نظام کیسے چلے عوام کو کیسے ریلیف ملیں ۔ یہاں اس اہم پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے کہ اگرہمارے حکمران پُر خلوص ہوں یا ہوتے اور اپنی جائیدادیں بیرونی ممالک میں نہ بناتے خود احتسابی کے عمل کو جاری کرتے تو آج ہم جس مقام پر پہنچ چکے ہیں نہ پہنچتے۔
حرف آخر یہ کہ جہاں اس نظام حیات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو وہاں اہل اختیار و اقتدار کے دل میں عوام کا درد ہونا بھی ضروری ہے اس کے بغیر ہر ایک نظام بے سود ثابت ہو گا ؟

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button