
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی بحری قوانین اور اصولوں کا پابند ہے اور صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے اس حساس انسانی بحران سے نمٹنے اور پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی کے لیے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک حکمتِ عملی تیار کی ہے۔
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے دس پاکستانی بحری عملے کے ارکان کے معاملے پر حکومت کے مؤقف اور جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
یہ پاکستانی ملاح رواں سال اپریل سے صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔ وہ پلاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 پر سوار تھے، جسے صومالی ساحلی علاقوں کے قریب قزاقوں نے قبضے میں لے لیا تھا۔
پاکستانی حکومت کے لیے اپنے شہریوں کی محفوظ رہائی ایک اہم انسانی اور سفارتی مسئلہ بن چکی ہے، جبکہ یرغمال ملاحوں کے اہلِ خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جلد اور بحفاظت واپسی کے لیے کوششوں میں مزید تیزی لائی جائے۔
اسحاق ڈار کی آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات
اسحاق ڈار نے رواں ہفتے برطانیہ میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز سے ملاقات کی، جس میں پاکستانی یرغمالیوں کی صورتحال، ان کی سلامتی اور ممکنہ رہائی کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ان کی ملاقات انتہائی مثبت رہی اور دونوں فریقوں نے اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم او نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک حکمتِ عملی پر بات کی ہے، تاہم حساس نوعیت کے باعث اس حکمتِ عملی کی مزید تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی جا سکتیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق:
"بعض بین الاقوامی اصول اور سمندری قوانین ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے اور پاکستان بھی ان کی پیروی کرتا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی سطح پر قزاقوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے ایسے اصول موجود ہیں جن کا مقصد سمندری قزاقی کی حوصلہ شکنی کرنا اور مستقبل میں اسی نوعیت کے واقعات کو روکنا ہے۔
تاوان کی ادائیگی قزاقوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتی ہے
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی اصولوں کے تحت یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کرنے سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے قزاقوں اور جرائم پیشہ گروہوں کو مستقبل میں مزید کارروائیوں کی ترغیب مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک، کمپنی یا جہاز کے مالک کی جانب سے تاوان کی ادائیگی کی روایت قائم ہو جائے تو اس سے قزاق ایسے بحری جہازوں اور ممالک کو دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جن کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہاں سے مالی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا:
"ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنے لوگوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے گفت و شنید نہیں کرتے اور نہ ہی تاوان ادا کرتے ہیں کیونکہ اس سے قزاقوں کو وہی چیز دہرانے کی ترغیب ملے گی، خاص طور پر ان ممالک یا بحری جہازوں کو نشانہ بنانا جن کے مالکان تاوان ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، تاہم حکومت کو اس معاملے میں بین الاقوامی قوانین، بحری اصولوں اور طویل المدتی سلامتی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
پاکستانی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ کی تشویش میں اضافہ
دوسری جانب یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہلِ خانہ کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اہلِ خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی اور انسانی بنیادوں پر تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے ان کے پیاروں کی جلد رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
اہلِ خانہ کے مطابق قزاقوں کے قبضے میں موجود عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے پاس پینے کا صاف پانی تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یرغمال ملاح محدود خوراک اور انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ صورتحال حکومت پاکستان کے لیے انسانی ہمدردی کے حوالے سے بھی ایک سنگین چیلنج بن گئی ہے، کیونکہ یرغمالیوں کے اہلِ خانہ مسلسل ان کی صحت، خوراک اور زندگیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان کا صومالی حکومت اور جہاز کے مالک سے رابطہ
دفترِ خارجہ پاکستان کے ترجمان نے اس سے قبل بتایا تھا کہ حکومت پاکستان نے صومالیہ کی حکومت اور ایم ٹی آنر 25 کے مالک سے رابطہ کیا ہے۔
پاکستانی حکام نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ جب تک یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں اور بات چیت جاری ہیں، اس وقت تک پاکستانی عملے کو خوراک، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اپنے شہریوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے رابطے میں ہے۔
آئل ٹینکر میں دھماکہ خیز سامان، کارروائی مشکل
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جون میں اس معاملے کی پیچیدگیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے براہِ راست قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی یا ممکنہ فوجی آپریشن کسی حد تک مشکل ہے۔
اس مشکل کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ جس آئل ٹینکر پر پاکستانی ملاح موجود ہیں، اس میں دھماکہ خیز یا خطرناک نوعیت کا سامان موجود ہے۔
ایسی صورتحال میں کسی بھی قسم کی براہِ راست کارروائی نہ صرف یرغمالیوں بلکہ جہاز کے دیگر عملے اور سمندری ماحول کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آئل ٹینکر پر کارروائی کے دوران ایک معمولی غلطی بھی بڑے پیمانے پر آگ، دھماکے یا سمندری آلودگی کا باعث بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
سفارتی حکمتِ عملی اور بین الاقوامی تعاون
پاکستانی حکومت اس معاملے میں سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی تعاون کو اہم قرار دے رہی ہے۔ آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی ملاقات کو اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ ایک طرف اپنے شہریوں کی زندگیوں اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے جبکہ دوسری جانب ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے جس سے مستقبل میں بحری قزاقی کے واقعات کی حوصلہ افزائی ہو۔
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت اس معاملے سے غافل نہیں اور یرغمال ملاحوں کی رہائی کے لیے متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
تاہم حکام نے اس حکمتِ عملی کی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سفارتی اور ممکنہ طور پر دیگر حساس ذرائع بیک وقت استعمال کیے جا رہے ہیں۔
صومالی بحری قزاقی ایک بار پھر عالمی تشویش
صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں بحری قزاقی ایک عرصے سے بین الاقوامی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے ایک سنگین مسئلہ رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران بین الاقوامی بحری افواج اور مختلف ممالک کے تعاون سے صومالی قزاقی کے واقعات میں کمی آئی تھی، تاہم ایسے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
بحری جہازوں پر حملوں اور عملے کو یرغمال بنانے کے واقعات نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ عالمی تجارتی نظام کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔
پاکستانی ملاحوں کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ کئی ماہ سے قزاقوں کے قبضے میں ہیں اور ان کے اہلِ خانہ مسلسل ان کی صحت اور زندگیوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
حکومت پر جلد رہائی کے لیے دباؤ
پاکستانی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور حکومت کو اس معاملے کو اعلیٰ ترین سطح پر اٹھانا چاہیے۔
دوسری جانب حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاملہ انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے اور کسی بھی اقدام میں یرغمالیوں کی جانوں کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
اسحاق ڈار کی آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات اور دونوں فریقوں کے درمیان حکمتِ عملی کی تیاری کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ پاکستانی ملاحوں کی بحفاظت رہائی کے لیے کوششوں میں مزید پیش رفت ہو سکے گی۔
تاہم فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ حکومت پاکستان اور بین الاقوامی ادارے تاوان کی ادائیگی کے بغیر، سفارتی اور دیگر ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے، کئی ماہ سے قزاقوں کے قبضے میں موجود دس پاکستانی ملاحوں کی محفوظ واپسی کب تک یقینی بنا سکیں گے۔
یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہلِ خانہ کی نظریں اب حکومت پاکستان، بین الاقوامی بحری اداروں اور صومالی حکام کی آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں، جبکہ سب سے اہم ترجیح یہ ہے کہ عملے کو فوری طور پر خوراک، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں اور ان کی جانوں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جائے۔



