
نجی سرمایہ کاری ہی پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کی ضامن، پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے قیام اور سرمایہ کاری کے نئے نظام کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا جائے: وزیراعظم شہباز شریف
حکومت کی اولین ترجیح ایسا کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے جہاں سرمایہ کار اعتماد، شفافیت اور آسانی کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور خود کفیل معیشت بنانے کے لیے نجی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے۔ حکومت ایسے جامع اور مؤثر اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے جن کے ذریعے نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار معاشی نمو کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کی مالی معاونت کے لیے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے قیام کا قابلِ عمل منصوبہ جلد از جلد تیار کرکے پیش کیا جائے، جبکہ پبلک اور پرائیویٹ ایکویٹی مارکیٹ کی ترقی کے لیے ایک جامع قومی روڈ میپ بھی مرتب کیا جائے۔
وزیراعظم نے یہ ہدایات نجی سرمایہ کاری کے فروغ، پبلک و پرائیویٹ ایکویٹی مارکیٹ کی توسیع اور پائیدار معاشی ترقی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، معاشی ماہرین، وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری بورڈ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، اسٹیٹ بینک، مالیاتی اداروں، سرمایہ کاری کمپنیوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کے موجودہ رجحانات، سرمایہ کاروں کو درپیش چیلنجز، کیپیٹل مارکیٹ کی استعداد، متبادل مالیاتی ذرائع، وینچر کیپیٹل، پرائیویٹ ایکویٹی، ایس ایم ای سیکٹر کی ضروریات اور عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ حکومت سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید سازگار بنانے، کاروباری قوانین میں اصلاحات اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ایسا کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے جہاں سرمایہ کار اعتماد، شفافیت اور آسانی کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں معاشی استحکام کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان کامیابیوں کو وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کی صورت میں تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ کسی بھی ترقی یافتہ معیشت کا بنیادی ستون ہوتا ہے، اس لیے حکومت سرمایہ کاروں کے لیے تمام غیر ضروری رکاوٹیں دور کرنے، کاروباری لاگت کم کرنے، ریگولیٹری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ سرمایہ کاری سے متعلق تمام پالیسیوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے تاکہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش منزل بن سکے۔
وزیراعظم نے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی شعبہ دنیا کی کامیاب معیشتوں میں اقتصادی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ایس ایم ای سیکٹر کو جدید مالیاتی سہولیات، سرمایہ اور کاروباری معاونت فراہم کیے بغیر معاشی ترقی کی رفتار کو تیز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی مقصد کے لیے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے قیام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ کاروباری اداروں کو بینک قرضوں کے علاوہ بھی سرمایہ حاصل کرنے کے مؤثر ذرائع میسر آ سکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید ہدایت کی کہ پاکستان میں پبلک اور پرائیویٹ ایکویٹی فنڈز کے فروغ کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے، جس میں سرمایہ کاری کے مواقع، ریگولیٹری اصلاحات، قانونی تحفظ، سرمایہ کاروں کے حقوق، شفاف مالیاتی نظام، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی شمولیت اور جدید مالیاتی آلات کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ایکویٹی مارکیٹ نہ صرف سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گی بلکہ صنعتوں اور کاروباری اداروں کو بھی اپنی توسیع کے لیے درکار سرمایہ حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان معدنی وسائل، زرخیز زرعی اراضی، نوجوان افرادی قوت، توانائی کے وسیع امکانات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے اور خدمات کے شعبوں میں بے پناہ سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ان شعبوں میں جدید سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف صنعتی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدات، زرمبادلہ کے ذخائر، روزگار کے مواقع اور قومی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معدنیات، زراعت، لائیو اسٹاک، قابلِ تجدید توانائی، آئی ٹی، ڈیجیٹل معیشت، انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل، ویلیو ایڈڈ برآمدات اور جدید صنعتی منصوبے مستقبل میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کے بنیادی ستون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ سے پاکستان عالمی سپلائی چین کا مؤثر حصہ بن سکتا ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ملکی بینکاری نظام کی جانب سے سرمایہ کاری اور طویل المدتی کاروباری فنانسنگ کا حجم ابھی تک محدود ہے، جس کی وجہ سے صنعت، نئی کمپنیوں اور اختراعی کاروباری منصوبوں کو مطلوبہ سرمایہ دستیاب نہیں ہو پاتا۔ انہوں نے کہا کہ صرف بینک قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے پرائیویٹ ایکویٹی، وینچر کیپیٹل، کیپیٹل مارکیٹ، انویسٹمنٹ فنڈز اور دیگر جدید مالیاتی ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ معیشت کو سرمایہ کاری کے متنوع ذرائع میسر آ سکیں۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سرمایہ کاری سے متعلق قوانین کو مزید سرمایہ کار دوست بنایا جائے، غیر ضروری سرکاری پیچیدگیوں کا خاتمہ کیا جائے، شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ایسی پالیسیاں متعارف کرائی جائیں جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے ایسے اصلاحاتی اقدامات کرے گی جن سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول مزید بہتر ہو۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ حکومت کیپیٹل مارکیٹ کی وسعت، سرمایہ کاری کے نئے ذرائع، ایس ایم ای سیکٹر کی مالی معاونت، کاروباری اصلاحات اور عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ اس ضمن میں عالمی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی سرمایہ کاری کمپنیوں اور بین الاقوامی فنڈز کے ساتھ تعاون کو بھی وسعت دی جا رہی ہے تاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کو پوری رفتار سے آگے بڑھائے گی، سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور پاکستان کو ایک جدید، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط نجی شعبہ، جدید مالیاتی نظام، برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فروغ ہی پاکستان کو معاشی خود کفالت، پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔


