پاکستاناہم خبریں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کا دورہ، مون سون اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت

این ای او سی ملک بھر سے موصول ہونے والے موسمی، جغرافیائی اور ہنگامی صورتحال سے متعلق ڈیٹا کو ایک مرکزی پلیٹ فارم پر جمع کرکے اس کا تجزیہ کرتا ہے

سید عاطف ندیم-ادارت

چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز میں قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) کا دورہ کیا، جہاں انہیں ملک بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات، جاری مون سون سیزن کے دوران ممکنہ خطرات، جدید نگرانی کے نظام اور قومی سطح پر مربوط ہنگامی ردعمل کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دورے کا مقصد ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے قدرتی خطرات کے تناظر میں قومی تیاریوں، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام کا جائزہ لینا تھا تاکہ ممکنہ آفات کے دوران بروقت اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور ردعمل کے نظام پر بریفنگ

دورے کے دوران چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو این ای او سی کی آپریشنل صلاحیتوں، جدید ٹیکنالوجی سے لیس نگرانی کے نظام، ڈیجیٹل ڈیٹا اینالیسز، موسمیاتی پیش گوئی، سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کے مربوط میکنزم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ این ای او سی ملک بھر سے موصول ہونے والے موسمی، جغرافیائی اور ہنگامی صورتحال سے متعلق ڈیٹا کو ایک مرکزی پلیٹ فارم پر جمع کرکے اس کا تجزیہ کرتا ہے، جس کے ذریعے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو بروقت معلومات اور الرٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔

حکام نے فیلڈ مارشل کو "ڈیزاسٹر لینز 2026” کے تحت جاری مانیٹرنگ سسٹم کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جس کے ذریعے ملک میں جاری مون سون بارشوں، ممکنہ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، دریاؤں اور آبی ذخائر کی صورتحال اور دیگر قدرتی خطرات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

مون سون سیزن کے دوران ممکنہ خطرات کا جائزہ

بریفنگ میں ملک کے مختلف حصوں میں جاری مون سون بارشوں، ان سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات اور ان کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ این ڈی ایم اے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں، محکمہ موسمیات، آبی وسائل سے متعلق اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔

بریفنگ کے دوران شہری آبادی، حساس انفراسٹرکچر، مواصلاتی نظام، پلوں، شاہراہوں، ڈیموں اور دیگر اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے کیے گئے پیشگی انتظامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

قومی سطح پر استعداد کار میں اضافے کی ضرورت پر زور

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے این ڈی ایم اے کی جانب سے قومی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تیاریوں اور جدید نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہر وقت مکمل تیاری کی حالت میں رہنا ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، بروقت فیصلہ سازی، مؤثر رابطہ کاری اور تیز رفتار ردعمل انتہائی اہمیت رکھتے ہیں تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے اور قومی انفراسٹرکچر کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کسی بھی ممکنہ قدرتی آفت کی صورت میں عوام کو بروقت معلومات کی فراہمی، پیشگی انتباہی نظام کو مزید مؤثر بنانے اور امدادی کارروائیوں میں تمام اداروں کے درمیان قریبی تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

سول انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی قدرتی آفات، ہنگامی صورتحال اور قومی بحران کے دوران سول انتظامیہ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج امدادی سرگرمیوں، ریسکیو آپریشنز، متاثرہ علاقوں تک رسائی، طبی امداد، نقل مکانی، لاجسٹک سپورٹ اور بحالی کے مراحل میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اداروں کے درمیان مربوط تعاون ہی کسی بھی قدرتی آفت کے دوران مؤثر ردعمل اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

این ای او سی کا کردار

نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) ملک میں قدرتی آفات، موسمیاتی خطرات اور دیگر ہنگامی صورتحال کی نگرانی اور مربوط ردعمل کے لیے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔

یہ مرکز جدید سیٹلائٹ تصاویر، موسمیاتی ماڈلز، جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS)، رئیل ٹائم ڈیٹا اور مختلف قومی اداروں سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کرتا ہے اور متعلقہ اداروں کو بروقت الرٹس جاری کرتا ہے تاکہ امدادی کارروائیوں کو زیادہ مؤثر اور تیز بنایا جا سکے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں قومی تیاریوں کی اہمیت

ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ غیر معمولی مون سون بارشیں، اچانک سیلاب، گلیشیئرز کے پگھلنے، لینڈ سلائیڈنگ، شدید گرمی کی لہریں اور دیگر قدرتی خطرات ملک کے لیے مسلسل چیلنج بن رہے ہیں۔

اسی تناظر میں این ڈی ایم اے، صوبائی حکومتوں، ریسکیو اداروں، محکمہ موسمیات اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی کو قومی سطح پر آفات سے نمٹنے کی استعداد کار میں اضافے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

دورے کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی، بروقت پیشگی انتباہ، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے پاکستان قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر امدادی کارروائیاں ممکن ہوں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button