
قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان کا مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر زور
اگر عوام اپنی روزمرہ زندگی میں ریاست کی موجودگی کو مثبت انداز میں محسوس نہ کریں تو جمہوری نظام پر اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے، جس کے اثرات پورے سیاسی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
سید عاطف ندیم-ادارت
لاہور: قائم مقام گورنر پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں مؤثر، شفاف اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کے قیام کے لیے اختیارات کی حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام، آئین کی روح کے مطابق منتخب عوامی نمائندوں کو انتظامی اختیارات کی فراہمی اور ریاستی اداروں کے درمیان آئینی توازن کا قیام ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گورننس جیسے اہم قومی موضوع پر صرف سیمیناروں اور کانفرنسوں تک محدود رہنے کے بجائے مستقل قومی مکالمہ، پالیسی سازی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بہتر معیارِ زندگی اور بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
وہ یونیورسٹی آف لاہور کے سینٹر فار پالیسی اینڈ نیشن بلڈنگ کے زیر اہتمام "گورننس: لیکن نظام کیا؟” کے عنوان سے منعقدہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز اویس رؤف، ماہرین قانون، آئینی ماہرین، وکلا، اساتذہ، دانشوروں، محققین، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی، جہاں پاکستان میں گورننس، آئینی ڈھانچے، بلدیاتی نظام، جمہوری ارتقا اور انتظامی اصلاحات سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ریاست اور شہری کے درمیان مضبوط سماجی معاہدے کی ضرورت
اپنے خطاب میں ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ہر جدید اور جمہوری ریاست کی بنیاد ریاست اور شہری کے درمیان موجود سماجی معاہدے پر استوار ہوتی ہے، جس کے تحت حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو صرف ووٹ کا حق ہی نہ دے بلکہ انہیں حکومتی نظام کا فعال اور بااختیار حصہ بھی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پر لازم ہے کہ وہ عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی، صفائی، نکاسی آب، محفوظ ماحول، بنیادی انفراسٹرکچر اور دیگر ضروری شہری سہولیات فراہم کرے، کیونکہ یہی عوامی اعتماد اور مضبوط ریاست کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام اپنی روزمرہ زندگی میں ریاست کی موجودگی کو مثبت انداز میں محسوس نہ کریں تو جمہوری نظام پر اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے، جس کے اثرات پورے سیاسی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
مؤثر بلدیاتی نظام کے بغیر ترقی ممکن نہیں
قائم مقام گورنر پنجاب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے متعدد دیہی اور نیم شہری علاقوں میں آج بھی مؤثر بلدیاتی نظام کا فقدان ہے، جس کے باعث بنیادی سہولیات کی فراہمی، مقامی ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اختیارات کا ارتکاز ترقی کی رفتار کو سست کر دیتا ہے، جبکہ مضبوط بلدیاتی ادارے عوامی مسائل کے فوری حل، شفاف طرزِ حکمرانی اور مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اختیارات کو حقیقی معنوں میں ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوامی نمائندے اپنے علاقوں کے مسائل کا بروقت اور مؤثر انداز میں حل نکال سکیں۔
جمہوریت کی کامیابی عوامی فلاح سے مشروط
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی کا اصل معیار انتخابات کا انعقاد نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر شہریوں کو صاف پانی، بہتر صحت، معیاری تعلیم، نکاسی آب، محفوظ ماحول، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں تو جمہوریت کا حقیقی مقصد پورا نہیں ہوتا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں کو اپنی تمام تر توجہ عوامی خدمت، شفافیت، احتساب اور مؤثر گورننس پر مرکوز رکھنی چاہیے تاکہ جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔
آئین کی روح کے مطابق اختیارات کی منتقلی ضروری
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان کا آئین واضح طور پر منتخب عوامی نمائندوں کو انتظامی اختیارات منتقل کرنے کی بات کرتا ہے، تاہم یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ آئین میں موجود ان اصولوں پر مکمل طور پر عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ آئینی تقاضوں کے مطابق اختیارات کی منتقلی نہ صرف جمہوری عمل کو مضبوط بنائے گی بلکہ مقامی سطح پر احتساب، شفافیت اور بہتر کارکردگی کو بھی فروغ دے گی۔
سیاسی و انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی ہم آہنگی ضروری
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور انتظامی نوعیت کے مختلف چیلنجز سے گزر رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے تمام ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور قومی قیادت کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ قومی مسائل کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ آئین، قانون اور باہمی مشاورت کے ذریعے ممکن ہے، اس لیے تمام اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دینا چاہیے۔
اختلافِ رائے اور مکالمے کی روایت مضبوط بنانے پر زور
قائم مقام گورنر پنجاب نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور مختلف آراء کو سننا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے انہیں تعمیری مکالمے کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ قومی مسائل کا دیرپا اور قابلِ عمل حل تلاش کیا جا سکے۔
ان کے مطابق جمہوری معاشروں میں برداشت، مکالمہ، آئینی عملداری اور قانون کی حکمرانی ہی سیاسی استحکام کی ضمانت ہوتے ہیں۔
انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں پر کھلے مکالمے کی تجویز
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ عوامی حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور اگر مستقبل میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی اصلاحات یا حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی سے متعلق تجاویز سامنے آتی ہیں تو ان پر قومی سطح پر کھلے دل کے ساتھ بحث ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اہم قومی معاملات میں عوامی رائے، ماہرین کی تجاویز اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جانے چاہییں تاکہ ہر طبقے کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور شفاف احتساب پر زور
اپنے خطاب کے اختتام پر قائم مقام گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان میں پائیدار جمہوریت، مؤثر گورننس اور قومی ترقی کا انحصار شخصیات کے بجائے مضبوط اداروں، قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب، بااختیار بلدیاتی نظام اور منتخب عوامی نمائندوں کو آئینی اختیارات دینے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کے درمیان آئینی توازن، مؤثر عوامی نمائندگی، شفاف طرزِ حکمرانی اور قومی سطح پر مسلسل مکالمہ ہی پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ جمہوری ریاست بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے گورننس، آئینی اصلاحات، مقامی حکومتوں کے کردار، عوامی شمولیت، پالیسی سازی اور قومی اداروں کی استعداد کار کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی ادارے، پالیسی ماہرین اور ریاستی ادارے مل کر پاکستان میں بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔



